Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آئندہ مالی سال میں تعلیم کے شعبے کے لیے ریکارڈ 140 ارب روپے صوبائی بجٹ میں مختص کیے جارہے ہیں ۔عاطف خان

May 12, 2017 at 9:36 pm

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) صوبائی وزیر ابتدائی وثانوی تعلیم وبرقیات محمد عاطف خان نے کہا ہے کہ تعلیم یافتہ مائیں نئی نسل کی بہترین خطوط پر تربیت کرسکتی ہیں یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت خواتین کی تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دے رہی ہے اور تعلیمی بجٹ کا 70 فیصد تعلیم نسواں پر خرچ کیا جارہاہے ۔اُنہوں نے یقین دلایا ہے کہ قانونی تقاضے پورے کرکے این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کی مستقلی کے لیے اقدامات کئے جائیں گے۔وہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول لیبر کالونی مردان میں این ٹی ایس کے ذریعے نئی بھرتی ہونے والی 299 خواتین ٹیچرز میں تقرر نامے تقسیم کرنے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے ، تقریب سے ڈی ای او (زنانہ ) مس ثمینہ غنی نے بھی خطاب کیا جبکہ اس موقع پر ضلع کونسل کی خواتین ممبران سعدیہ مایار ، نعیمہ ناز اور عالیہ نواب کے علاوہ سکول کی پرنسپل یا سمین بیگم ،محکمہ تعلیم ؂کی ایس ڈی ای اوز اور سینئر پرنسپلز بھی موجود تھیں ۔وزیر تعلیم نے کہا کہ ہماری حکومت نے تعلیم کے شعبے کی اہمیت کے پیش نظر اس کے لیے مختص بجٹ کو سابقہ حکومت کے مقابلے میں دوگنا کردیا ہے اور آئندہ مالی سال میں تعلیم کے شعبے کے لیے ریکارڈ 140 ارب روپے صوبائی بجٹ میں مختص کیے جارہے ہیں ۔عاطف خان نے کہا کہ مردان میں پاکستان کے پہلے گرلز کیڈٹ کالج میں 22مئی سے کلاسوں کا اجراء ہوگا جبکہ مردان ہی میں فضل حق کالج کی طرز پر فاطمہ الفہری ماڈل گرلز سکول پر بھی تیزی سے کام جاری ہے جو صوبے بھر کی باصلاحیت طالبات کے لیے معیاری تعلیم دینے میں معاون ثابت ہوگا۔اُنہوں نے کہا کہ ہم انصاف کا علم لے کر اُٹھے ہیں ،ہمارے دور میں کسی کی حق تلفی نہیں ہوگی ہم نے صرف اور صرف میرٹ کو ہی بھرتی کامعیار بنایا ہے اور آج بھرتی ہونے والی ٹیچرز ہمارے اس دعویٰ کا بین ثبوت ہے ۔اُنہوں نے توقع ظاہر کی کہ نئی بھرتی شدہ ٹیچرز نئی نسل کو بہترین تعلیم وتربیت دیں گی اور جس طرح ان کو انصاف ملا وہ بھی اپنے پیشے کے ساتھ انصاف کریں گی ۔ وزیر تعلیم نے حالیہ بھرتیوں کے عمل کو بروقت اور مکمل شفاف طریقے سے سرانجام دینے پر ڈی ای او مس ثمینہ غنی اور ان کی پوری ٹیم کی کارکردگی کو سراہا ۔اُنہوں نے کہا کہ این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی ہونے والے مرد اور خواتین ٹیچرز کی مستقلی کے لیے کام ہورہا ہے اور اس سلسلے میں وہ اپنا وعدہ پورا کریں گے تاہم اساتذہ بھی اپنے فرائض پوری دیانتداری سے ادا کریں کیونکہ حکومت ان کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے ۔

Translate »
error: Content is protected !!