Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کالاباغ ڈیم کی صدائے بازگشت محمد شریف شکیب

May 11, 2017 at 10:44 pm

وزیرمملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے ایک بار پھر کالاباغ ڈیم کا ذکر چھیڑ دیا ہے۔ کہتے ہیں کہ قومی اتفاق رائے سے یہ ڈیم بننا چاہئے۔ پرویز مشرف کے دور میں کالاباغ ڈیم بن سکتا تھا لیکن پرویز الہی نے اس کی مخالفت کی۔ وزیرمملکت نے کالاباغ ڈیم پر ریفرنڈم کرانے کی تجویز بھی پیش کی۔ وفاقی وزیرکی زبانی کالاباغ ڈیم کی صدائے باز گشت سن کر یقین ہوگیا کہ اے این پی کے سربراہ نے گذشتہ روز پریس کانفرنس میں ’’ حکومت گرانے والوں کا ساتھ نہ دینے‘‘ کا اعلان کیوں کیا تھا۔عام انتخابات میں ابھی ایک سال سے بھی کم عرصہ رہ گیا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کالاباغ ڈیم کو اگلے انتخابات کا ایشو بنایا جارہا ہے۔ قومی وطن پارٹی سمیت خیبر پختونخوا کی بعض جماعتیں کالاباغ ڈیم کی مخالف رہی ہیں۔تاہم اے این پی اس مہم کی روح رواں ہے۔ آئندہ انتخابات کے لئے تحریک انصاف کے پاس تبدیلی کے نامکمل ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا نعرہ پہلے سے موجود ہے۔ مسلم لیگ اور جے یو آئی موجودہ صوبائی حکومت کی مبینہ کرپشن پر سیاست چمکانے کی کوشش کریں گی۔ پیپلز پارٹی صوبے میں کوئی بڑی انتخابی تبدیلی لانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔وہ اس بار بھی بھٹو اور بے نظیر کے سیاسی نظریات پر اپنی سیاسی بقاء کی جدوجہد کرے گی۔صوبے کی سطح پر اقتدار کی جنگ کے تین فریق تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ ن ہی ہیں۔ اگر دینی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوششیں کامیاب ہوگئیں تو جماعت اسلامی اور جے یو آئی کا اتحاد بھی مقابلے کی پوزیشن میں آسکتا ہے۔ دینی جماعتیں کالاباغ ڈیم کو انتخابی ایشو نہیں بنائیں گی ان کے پاس بیچنے کو پہلے سے بہت کچھ ہے۔ جن میں کرپشن کا خاتمہ، عادلانہ اسلامی نظام کا نفاذ، فلاحی معاشرے کی تشکیل اور غریبوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا شامل ہیں جن کا اعلان جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق مختلف عوامی اجتماعات میں کرتے رہے ہیں۔وزیراعظم نواز شریف بارہا یہ اعلانات کرچکے ہیں کہ 2018تک ملک سے لوڈ شیڈنگ کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت پانی، تیل، کوئلے اور شمسی توانائی سے 17ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جائے گی۔ فی الحال ساڑھے پانچ ہزار میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں بارہ سے سولہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔ وزیر مملکت کا یہ بھی کہنا ہے کہ حکومت اب تک چار ہزار دو سو میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کرچکی ہے کہ رواں ماہ مزید ایک ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں آجائے گی۔ جب پانچ ہزار کا شارٹ فال پورا ہونے جارہا ہے تو وزیرمملکت کا یہ بیان سمجھ سے بالاتر ہے کہ رمضان المبارک کے دوران بجلی کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے جس کے لئے پیشگی انتظامات کئے گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سی پیک سے اپنی مجموعی ملکی ضرورت سے تین گنا زیادہ بجلی حاصل ہونے کا تحمینہ ہے ۔تو کالاباغ ڈیم کے متنازعہ ایشو کو چھیڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ حکومت کے چار سال پورے ہوگئے اب تک دیامر بھاشا ڈیم پر بھی کام شروع نہیں ہوسکا۔ جس پر قومی اتفاق رائے بھی موجود ہے۔ نقشے بھی تیار ہیں۔ زمین بھی خریدی جاچکی ہے اب تک دس مرتبہ اس کا افتتاح بھی ہوچکا ہے لیکن نجانے کونسی غیر مرئی قوت قومی تعمیر کے اس اہم منصوبے پر کام شروع کرنے نہیں دی رہی۔ان حقائق کو مد نظر رکھ کر دیکھا جائے تو کالاباغ ڈیم کا ایشو چھیڑنا صرف سیاسی مفادات حاصل کرنے کا بہانہ لگتا ہے۔مسلم لیگ کی قیادت شاید یہ اندازے لگا رہی ہے کہ کالاباغ ڈیم پر تحریک انصاف خاموشی اختیار کرے گی۔ اے این پی اسے انتخابی نعرہ بنائے گی ۔ رائے دہندگان تقسیم ہوں گے جس کا براہ راست فائدہ مسلم لیگ ن اور اس کی ہمنوا اے این پی کو ہوگا۔کچھ عرصے سے جمہوری نظام میں تسلسل کا یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ عوام سیاسی طور پر کافی باشعور ہوچکے ہیں۔ انہیں وعدے وعید کے سبز باغ دکھا کر، ڈرا دھمکا کر یا ماضی کی طرح لولی پاپ دے کر بہلانا اب بہت مشکل ہے۔ لیکن ہماری سیاسی قیادت اب بھی عوام کو اللہ میاں کی گائے سمجھتی ہے۔ سیاسی رہنماوں کے پاس بیچنے کو مختلف اقسام کے منجن موجود ہیں۔شاید ان میں کچھ تاثیر بھی ابھی باقی ہو۔ انہیں متنازعہ ایشوز کو چھیڑ کر اور قومی مفادات کو داو پر لگا کر اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی حماقت سے اب گریز کرنی چاہئے۔

Translate »
error: Content is protected !!