Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مقامی حکومتوں سے فنڈز واپس لینے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔

May 11, 2017 at 10:56 pm

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )محکمہ بلدیات و دیہی ترقی خیبر پختونخوا کے ترجمان نے ایک اخبار میں شائع شدہ اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نے ضلعی حکومتوں سے ترقیاتی فنڈز کا اختیار واپس لے لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ خبربے بنیاد اور من گھڑت ہے جس سے صوبائی حکومت کی ساکھ اور عزائم کو نقصان پہنچا ہے۔ محکمہ مذکورہ نے اس طرح کی نہ تو کوئی آئینی ترمیم کی ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔موجودہ حکومت ماضی کی طرز پر پراجیکٹس کمیٹیاں بھی نہیں بنا رہی۔ انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ موجودہ صوبائی حکومت نے اپنے معاشی،انتظامی اورجمہوری اختیارات خیبر پختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ2013کے تحت مقامی حکومتوں کو تفویض کئے ہیں جن کا اعتراف ملکی و غیر ملکی میڈیا،اداروں،حکومتوں اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے بار بار کیا ہے۔ پہلی مرتبہ کسی صوبائی حکومت نے اپنے فنڈز کا 30فیصد حصہ مقامی نمائندوں کو دیا ہے ۔پچھلے سال بلدیاتی اداروں کو پندرہ ارب روپے کی خطیر رقم جاری ہو چکی ہے جبکہ امسال بھی تین قسطیں جاری ہو چکی ہیں جن کی مالیت اکیس ارب روپے بنتی ہے جو کہ ایک ریکارڈ ہے اس کے علاوہ نئی مقامی حکومتوں کے انتظامی ڈھانچے کی مضبوطی و اعزازئیے کی مد میں بھی بیش بہا رقوم مہیا کی گئی ہیں مذید برآں سترہ صوبائی محکموں کے اختیارات بھی مقامی حکومتوں کے حوالے کئے گئے ہیں جو کہ دیگر صوبوں نے نہیں کئے۔اس نظام کے تسلسل اور احیاء کے لئے لوکل گورنمنٹ کمیشن اور صوبائی مالیاتی کمیشن کی شکل میں مستعد،فعال اور با اختیار ادارے موجود ہیں ان دونوں اداروں میں اپوزیشن کے نمائندے بھی موجود ہیں۔ان اداروں کے باقاعدہ اجلاس منعقد ہوتے ہیں جن کی وجہ سے یہ نظام روز بہ روز ترقی کے مراحل طے کر رہا ہے اور حکومت و عوام کے درمیان رابطے کا اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!