Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

شبِ برأت کے فضائل و مسائل

May 11, 2017 at 10:41 pm

تحریر: مفتی محمد وقاص رفیعؔ
m.waqqasrafi1986@gmail.com
شعبان المعظم اسلامی تقویم کا آٹھواں مہینہ کہلاتا ہے اور اِس ماہ کی پندرھویں رات ’’شبِ برأت‘‘ کہلا تی ہے ۔ ’’شبِ برأت‘‘ وہ مبارک رات ہے کہ جس میں اللہ رب العزت نے اپنا پاک کلام قرآن مجید اُتارا ہے ۔ چنانچہ قرآن مجید میں خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ’’ترجمہ:حم ! قسم ہے کتاب مبین (قرآنِ مجید) کی، بے شک ہم نے یہ کتاب ایک با برکت رات میں نازل کی ہے ۔‘‘ اکثر و بیشتر حضرات مفسرین کی یہی رائے ہے کہ اس رات سے ’’شبِ برأت‘‘ (شعبان کی پندرھویں رات) ہی مراد ہے ، البتہ حضرت عکرمہؓ اور بعض دوسرے مفسرین حضرات فرماتے ہیں کہ اس رات سے ’’شبِ قدر‘‘ ( رمضان المبارک کی ستائیسویں رات)مراد ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے شبِ برأت کو مبارک رات اس لئے فرمایا ہے کہ اس رات میں زمین والوں کے لئے رحمت ، برکت ، گناہوں کی معافی اور مغفرت نازل ہوتی ہے ۔ اس قول کے ثبوت میں منجملہ دیگر روایات کے ایک روایت وہ ہے جو حضرت علیؓ نے حضورِ اقدس ؐ سے نقل کی ہے جس میں آپؐ نے فرمایا کہ : ’’نصف شعبان کی رات میں اللہ تعالیٰ قریب والے آسمان کی طرف نزول فرماتے ہیں اور سوائے مشرک اور دل میں کینہ رکھنے والے اور رشتہ داری منقطع کرنے والے اور بدکردار عورت کے ہر مسلمان کو بخش دیتے ہیں۔‘‘(غنیۃ الطالبین)
ایک حدیث میں آتا ہے رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص رمضان کے ایک دن یا دو دن پہلے سے روزہ نہ رکھے ، مگر یہ کہ وہ شخص (کسی) خاص دن کا روزہ رکھا کرتا ہو ( اور رمضان سے ایک دن پہلے وہ دن ہو مثلاً ہر پیر کو روزہ رکھنے کا معمول ہے اور اُنتیس شعبان کو پیر کا دن ہے) تو وہ شخص اس دن بھی روزہ رکھ لے! ۔ (بخاری و مسلم)
آنحضرتؐ نے شعبان کی پندرھویں رات ( شبِ برأت) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ : ’’ اس رات میں وہ سب بنی آدم لکھ لئے جاتے ہیں جو اس سال میں پیدا ہوں گے اور جو اس سال میں مریں گے اور اسی رات میں ان کے اعمال اُٹھائے جاتے ہیں اور اسی رات میں ان کے رزق نازل ہوتے ہیں۔(سنن بیہقی)
اعمال اُٹھائے جانے سے مراد اُن کا پیش ہونا ہے اور رزق نازل ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس سال میں جو رزق ملنے والا ہے وہ سب لکھ دیا جاتا ہے اور گوکہ یہ سب چیزیں پیشتر سے لوحِ محفوظ میں لکھی ہوئی ہیں مگر اس رات میں لکھ کر فرشتوں کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ واللہ اعلم
ایک حدیث میں آیا ہے رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’جب نصف شعبان کی رات ہو تو اس رات کو شب بیداری کیا کرو! اور اُس کے دن میں روزہ رکھا کرو ! کیوں کہ اللہ تعالیٰ اس رات غروب آفتاب کے وقت ہی آسمانِ دُنیا کی طرف نزول فرماتے ہیں اور ارشاد فرماتے ہیں کہ : ’’کیا کوئی مغفرت چاہنے والا ہے کہ میں اُس کی مغفرت کروں ؟ کیا کوئی روزی مانگنے والا ہے کہ میں اُس کو روزی عطا کروں؟ کیا کوئی مصیبت زدہ ہے ( کہ وہ مجھ سے عافیت کی دُعاء مانگے اور ) میں اُس کو عافیت دوں ؟ کیا کوئی ایسا ہے کیا کوئی ایسا ہے؟( رات بھر یہی رحمت کا دریا بہتا رہتا ہے ) یہاں تک کہ صبح صادق ہوجاتی ہے۔(ابن ماجہ ، سنن بیہقی)
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آنحضرتؐ کو شعبان سے زیادہ کسی ماہ میں روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا اور ایک روایت میں ہے کہ آپؐ سوائے چند دنوں کے (تمام) ماہِ شعبان میں روزہ رکھتے تھے ۔ (بخاری و مسلم)
ایک حدیث میں آتا ہے رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا کہ : ’’اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرھویں رات میں (اپنی مخلوق کی طرف ) توجہ فرماتے ہیں ، اور سوائے مشرک اور دل میں کینہ رکھنے والے شخص کے باقی تمام مخلوق کی مغفرت فرماتے ہیں ۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)
ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ (اور راتوں میں تو بالکل نہیں حتیٰ کہ) اس رات میں ( بھی) شرک کرنے والے ،دل میں کینہ رکھنے والے ،رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے والے، پائجامہ ٹخنے سے نیچے لٹکانے والے ، ماں باپ کی نافرمانی کرنے والے، ہمیشہ شراب پینے والے شخص کی طرف نظر رحمت نہیں فرماتے۔ (ماثبت بالسنۃ عن البیہقی)
ام المؤمنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ؐ کو (بستر پر) نہیں پایا اور (آپؐ کی تلاش میں) گھر سے نکل پڑی ، دیکھا کہ بقیع کے قبرستان (جنت البقیع میں ) آپؐ موجود ہیں اور سر مبارک آسمان کی طرف اُٹھا ہوا ہے ، آپؐ نے (مجھے دیکھ کر حقیقت حال بھانپ لی اور مجھ سے) فرمانے لگے کہ کیا تمہیں اندیشہ ہے کہ اللہ اور اُس کا رسول تمہاری حق تلفی کریں گے ؟۔‘‘ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ؐ! میرا گمان تو یہی تھا کہ آپؐ کسی بی بی کے یہاں تشریف لے گئے ہوں گے ؟ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ: ’’ نصف شعبان کی رات میں اللہ تعالیٰ قریب والے آسمان کی طرف نزول فرماتے ہیں اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ (گناہ گاروں کی) بخشش فرماتے ہیں۔‘‘( ابن ابی شیبہ ، ترمذی ، ابن ماجہ ، بیہقی )
حضرت ابو نضرہؒ فرماتے ہیں کہ شبِ برأت میں سال بھر کے سارے کام (فرشتوں پر) منقسم کردیئے جاتے ہیں ، تمام سال کی بھلائی ، برائی ، روزی ، موت ، تکلیفیں اور نرخوں کی ارزانی اور گرانی تمام سال کی دے دی جاتی ہے ۔‘‘ حضرت عکرمہؓ فرماتے ہیں کہ شبِ برأت میں سال بھر کے احکام طے کرکے (متعلقہ فرشتوں کے ) حو الہ کردیئے جاتے ہیں ، اس سال کے مُردوں کی فہرست اور حج کرنے والوں کی فہرست دے دی جاتی ہے ، نہ اُن میں کمی ہوسکتی ہے نہ زیادتی۔ ‘‘(فضائل صدقات)
ایک حدیث میں ہے کہ نصف شعبان کی رات کو حق تعالیٰ شانہ ملک الموت کو اس سال میں مرنے والوں کی اطلاع فرمادیتے ہیں ۔‘‘ حضرت عطاء بن یسارؒ فرماتے ہیں کہ : ’’جب نصف شعبان کی رات ہوتی ہے تو ملک الموت کو ایک فہرست دے دی جاتی ہے کہ اس میں جن کے نام ہیں اُن سب کی اس سال میں رُوح قبض کرلی جائے ۔ یہاں ایک آدمی فرش فروش میں لگا ہوا ہے ، نکاح کرنے میں مشغول ہے ، مکان کی تعمیر کرارہا ہے اور وہاں مُردوں کی فہرست میں آگیا۔(دُرّمنثور)
شیخ عبد القادر جیلانیؒ لکھا ہے کہ پندرھویں شعبان کی رات (شبِ برأت) کی عبادت جو سلف سے منقول ہے وہ یہ ہے کہ سو رکعتوں میں ایک ہزار بار سورۂ اخلاص یعنی ہر رکعت میں دس مرتبہ قل ہو اللہ احد کی قرأت کی جائے ، اس نماز کا نام’’ صلوٰۃ الخیر ‘‘ہے ، اس کی برکتیں پھیلتی ہیں ، سلف صالحین یہ نماز جماعت سے پڑھتے تھے ، اس نماز کی بڑی فضیلت اور کثیر ثواب ہے ۔
حضرت حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ؐ کے تیس صحابہؓ نے بیان کیا ہے کہ : ’’اِس رات میں جو شخص یہ نماز پڑھتا ہے ، اللہ تعالیٰ ستر مرتبہ (رحمت کی نگاہ سے ) اُس کی طرف دیکھتے ہیں اور ہر ایک نگاہ میں ستر حاجتیں (اُس کی ) پوری فرماتے ہیں ، جن میں سب سے ادنیٰ حاجت گناہوں کی مغفرت ہے۔‘‘(غنیۃ الطالبین)

Translate »
error: Content is protected !!