Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تنسیخِ پولو ٹورنامنٹ۔ناظمین کے وژن کو پچیس توپوں کی سلامی (اعجاز احمد)

May 11, 2017 at 10:45 pm

ویب سائٹ ہذا کی ایک خبر کے مطابق ڈسٹرکٹ ناظمین چترال کی طرف سے چترال شہر میں پولو ٹورنامنٹ کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ڈسٹرکٹ ناظم اور نائب ناظم نے شندور میلے کیلئے کوالیفائینگ ٹورنامنٹ کو منسوخ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے چترال شہر میں ہنگامی صورتحال کا اعلان بھی کیا ۔ جواز میں چترال میں گزشتہ ماہ ہونے والے ایک ناخوشگوار واقعہ اور اُس کے نتیجے میں ہونے والی گرفتاریوں کا مسئلہ پیش کیا گیا ہے۔
جب سے ناظمین کی طرف سے درج بالا احکامات جاری ہوتے ہوئے دیکھا ہے ایک عجیب سی مسرت محسوس ہوئی ہے،کہ وہ عشق اور حبِِ مذہب میں اتنے آگے جاسکتے ہیں کہ اپنے زیر انتظام علاقے میں کسی بھی سرگرمی کو روک دیتے ہیں، بے شک وہ سرگرمی کھیل تماشا ہی کیوں نہ ہو اور اُس کا تعلق کسی بھی طرح کسی فرقہ ورانہ تنازع سے دور دور کا بھی نہ ہو۔ ہمارے ناظمین مذکورہ ناخوشکوار واقعے کے بعدواقعتاًً اتنے دلبرداشتہ ہوئے ہیں کہ اُن کو ایمرجنسی لگانا پڑی۔بندہ سوچتاہے کہ اگر ایسا ہے تو مذکورہ اندوہناک واقعہ کے بعد اُ ن کے اپنے معمولات زندگی کتنے بگڑ گئے ہوں گے،
ایسا نہیں ہے ، سب کچھ رواں دواں ہے، درج بالا معمولات اُسی ڈگر پر جاری ہیں۔انہوں نے ناصرف کھانا نہیں چھوڑا ہے بلکہ کھااور کھلا بھی رہے ہیں۔ افتتاح بھی کررہے ہیں، خطاب بھی کررہے ہیں۔ پابندی صرف ’’دیگر‘‘ لوگوں پر ہے۔ چونکہ توہین رسالت کا گھناونا واقعہ پیش آیا ہے لہٰذا ہمارے ناظمین بہت غصے میں ہیں اور وہ کسی بھی ٹورنامنٹ شورنامنٹ کا انعقاد نہیں کرنے دیں گے ۔ چونکہ 22 خاندان نہایت کرب و بلا کی حالت میں ہیں لہٰذا چترال کے تین لاکھ دیگر خاندانوں کو بھی اُن کے غم میں شریک ہونا چاہئے اور ڈھول تماشوں سے دور رہنا چاہئے، البتہ اس حکم نامے کے تحت ناظمین کو اجازت ہوگی کہ وہ جس پر بھی چاہیں پابندی لگائیں، دوسروں کے پروجیکٹس پر اپنی تختیاں لگواکر افتتاح کرتا پھیریں ، اس سے اُن 22 خاندانوں کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
حیرت ہے گزشتہ سال چترال کے اتنے ہی لوگ طیارہ حادثے میں جان بحق ہوئے تھے اور اتنے ہی خاندان غم میں مبتلا تھے مگر ہمارے ناظمین نے اس تلقین کے ساتھ سوشل میڈیا پر پابندی نہیں لگائی کہ یکسوئی کے ساتھ اپنے بھائیوں کے غم میں برابر کے شریک ہوں۔ پھر یکے بعد دیگر ٹریفک حادثات میں چترال کے لوگ بڑی تعداد میں فوت ہوئے اور حیرت انگیز طورپر ہمارے ناظمین نے کوئی حکمنامہ جاری نہیں کیا کہ چترالی چونکہ ازمائش کی گھڑی سے گزررہے ہیں لہٰذا اب سے فیس بُک بند۔کیوں؟ اسلئے کہ سوشل میڈیا پر پابندی لگانا ناظمین کے بس میں نہیں ہے۔ پروجیکٹس لانا، فنڈ پیدا کرنا اور سوشل میڈیا پر پابندی لگانا؛ یہی تین کام ہیں ہمارے ناظمین نہیں کرسکتے، باقی کسی بھی حماقت کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
جب بھی شندور کا میلہ قریب آتا ہے ساتھ ہی اس سے وابستہ سرگرمیوں کی منسوخی کے جواز ڈھونڈنے کا عمل کیوں تیز ہوتاہے اور منسوخ کرنے کا پہلا مطالبہ مذہبی جماعتوں ہی کی طرف سے کیوں آتاہے ، اور میلوں اور تفریح کے مواقع سے اتنی دشمنی کیوں برتی جارہی ہے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔گزشتہ برس سیلاب کے نتیجے میں تباہی کا جواز پیش کرکے اور اُس سے بھی قبل تورکہو میں لینڈ سلائڈنگ کے واقعے کے پیش نظر شندور میلے کو منسوخ کرکے فنڈ دیگر مد میں استعمال کرنے کا مطالبہ کیا گیا اور جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور سابق پولیس آفیسر صاحب نے باقاعدہ شندور میلے کے خلاف تحریک کا آغاز کیا تھاحالانکہ وہ خود پولو کے کھلاڑی رہے ہیں۔ہمارے نمائندگان کی اکثریت خواہ وہ کسی بھی سطح کے ہوں کا پس منظرٹھیکیداری ہے یعنی اُن کو فنڈنگ اور اُس کے استعمال کا طریقہ کار صحیح طریقے سے معلوم ہے۔اسکے باوجود وہ مطالبہ کریں گے کہ شندور کے پیسے سڑکوں پر لگادیئے جائیں۔ کرکٹ سے حاصل ہونے والے ریونیو سے فٹ بال کو ترقی نہیں دی جاسکتی، یہ اِن سب کو معلوم ہے لیکن ایک اخباری بیان دینے کے خاطر وہ یہ مطالبہ ضرور کریں گے۔
اب پولو ٹورنامنٹ سے ناظمین کو کیا مسئلہ ہے؟اگر 22لوگ جیل میں ہیں اور چترال میں ٹورنامنٹ جائز نہیں توتوہین رسالت کے اتنے گھناونے واقعے کے بعد اور 22 لوگوں کے جیل میں رہنے کے باوجود آپ کا ناظم رہنا جائز ہے؟آپ میں سے کسی ایک نے استعفیٰ کیوں نہیں دیا؟آپ تو ایک غیر اسلامی عمل یعنی الیکشن کے ذریعے ناظم بنے ہوئے ہیں، ؟ یہ الیکشن آپ کیلئے حلال ہوسکتاہے وہ بھی توہین رسالت ﷺ کے واقعے کے باوجود۔ تو پولو کھلاڑیوں کے لئے پولو کھیلنا جائز کیوں نہیں؟پولو ٹورنامنٹ سے کونسا فرقہ ورانہ ہم آہنگی پر فرق پڑنا ہے ؟پولو ٹورنامنٹ کے نتیجے میں کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ دس ہزار روپے ملیں گے۔ آپ باقاعدہ فنڈ اور تنخواہ لے رہے ہیں، توہین رسالت کے واقعے بعد آپ کے معمولات میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا تو کھیل اور کھلاڑی کیوں اسکی قیمت ادا کریں؟ چلیں اس سال کوئی ٹورنامنٹ کا انعقاد نہیں ہوگا، کوئی شندور کا میلہ نہیں لگے گا۔ گارنٹی دیں کہ ٹورنامنٹ اور جشن شندور کی وساطت سے جتنے لوگوں کا بھلا ہوتاہے وہ آپ اپنے فنڈ سے پورے کریں گے۔ جشن شندور سے جتنے لوگ روزی کماتے ہیں کیا آپ اُس کا عشرِ عشیر بھی پیدا کرسکتے ہیں؟ اپنے ووٹروں کے پیٹ پر لات مارنا آپ کا وژن ہے؟ آپ اپنے علاقے کی بھوک میں اضافہ کرکے توہین رسالت کا علاج ڈھونڈتے ہیں؟ آپ کی بصیرت کو پچیس توپوں کا سلام۔
مقامی حکومتیں قائم کرنے کا مقصد اپنے خدمتگاروں تک عوام کی رسائی کو آسان بناناہے۔مقامی حکومتوں کے پیچھے عوام کی دہلیز پر اُن کی آواز سننے اور اُن کے متعین چھوٹے چھوٹے مسائل حل کرنے کا مقصد پنہاں ہے۔ مقامی حکومتیں تفریح کے مواقع پر پابندیاں لگانے کیلئے قائم نہیں ہوتیں عوام کو زیادہ سے زیادہ تفریح کے مواقع فراہم کرنے کیلئے قائم ہوتی ہیں۔ کتنے گراؤنڈز آ پ ناظمین نے اپنے فنڈز سے بنوائے ہیں ؟ پولو کی ترقی کیلئے آپ کی کیا خدمات ہیں؟ پولو ہمارے علاقے کی پہچان ہے اس شناخت کو مضبوط بنانے کیلئے آپ نے کتنی قراردادیں پیش کیں؟ کونسی صوبائی اور وفاقی حکومت کو تجاویز بھیجیں؟ کونسا پروگرام پیش کیا؟ ہزاروں لوگ سیاحت سے رزق کمارہے ہیں کیا وہ آپ کے دائرہ فرائض سے باہر ہیں؟ بجائے اس کے ٹورنامنٹس کی تعداد میں اضافہ کرکے پولو سے وابستہ لوگوں کا پیٹ بھردیں ،آپ تو الٹ جارہے ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ آپ نے شروع نہیں کیا ہے۔ اپنا جے ڈی دوبارہ پڑھیئے۔ اُس میں اور بھی کچھ لکھا ہوگا، اُسے پورا کرنے کی کوشش کیجئے۔ کسی نے آپ سے غلط کہا ہے کہ اور کچھ نہ ہوسکے تو پہلے سے مقررہ ٹورنامنٹ کو منسوخ کردو۔ لگتاہے آپ کو اپنے فرائض سے اتنی دلچسپی نہیں جتنا آپ نے حکمرانی کا شوق پالا ہے۔
توہین رسالت کا پولو ٹورنامنٹ سے کیا تعلق ہے؟ دنیا جب تک قائم ہے ہرقسم کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے، ایک واقعہ کو اتنا مت اچھالیں کہ کل یہ آپ کے ہی گلے پڑ جائے، لوگوں کو بھولنے دیں، بھلادینے کا ساماں پیدا کیجئے، ابھی ووٹ کیلئے بہت وقت ہے اسی واقعے کو آپ آئیندہ الیکشن تک نہیں کھینچ سکتے۔ سوشل میڈیا کا دور ہے لوگ سب سمجھتے ہیں کہ واقعہ کتنا بڑا ہے اور کون کیش کرنے کی کوشش کررہاہے، ایک لمحے کیلئے سوچیں کہ آپ کی اصل ذمہ داری کیا ہے۔بطور ایک چترال کا شہری آپ کو ضمانت دیتاہوں کہ توہین رسالت کا مرتکب کوئی بھی شخص اگر چھوٹ جاتاہے تو میں وزیراعظم ، وزیراعلیٰ کو ذمہ دار قرار دوں گا، ضلع ناظمین کو نہیںآپ اطمینان رکھیں، آپ کو ووٹ گلی، سڑکوں کی تعمیر کی بنیاد پر ملیں گے توہین رسالت کے قوانین کے حوالے سے نہیں ۔ہاں اب رہا شندور میلہ اور پولو ٹورنامنٹ تو وہ نہ آپ کے کہنے پر شروع ہوئے تھے اور نہ آپ کی خواہش پر ختم ہوں گے ۔

Translate »
error: Content is protected !!