Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دیدہ دل سے تبدیلی کا نظارہ محمد شریف شکیب

May 9, 2017 at 6:58 am

خیبر پختونخوا میں گذشتہ تین چار سالوں کے اندر ہر شعبے میں کچھ نہ کچھ تبدیلی آگئی ہے۔ بقول وزیراعلیٰ کے۔ جن لوگوں کو تبدیلی نظر نہیں آرہی۔ انہیں اپنی آنکھوں کا علاج کسی اچھے ڈاکٹر سے کروانا چاہئے۔ تاہم کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ تبدیلی دکھائی دینے سے زیادہ محسوس کی جاتی ہے۔ جنہیں تبدیلی محسوس کرنے کا شوق ہو ۔۔’’ ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی۔ ہو دیکھنا تو دیدہ دل وا کرے کوئی‘‘۔جن لوگوں کے دل کی آنکھ بیدار ہے۔ ان کو جابجا کچھ نہ کچھ نیا نظر آئے گا۔ مثال کے طور پر اسمبلیوں میں آج تک ہم نے اپنے منتخب ارکان کو ہلڑ بازی ، نعرے بازی کرتے، ایک دوسرے پر دشنام طرازی ،گالم گلوچ، دھینگا مشتی، ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ کر سپیکر پر نچھاور کرتے یا پھر اعدادوشمار کے گورکھ دھندے کی شکل میں بجٹ پیش کرتے دیکھا ہے۔ پہلی بار صوبائی اسمبلی میں عشق و معاشقے کی صدائے بازگشت سنائی دی ہے۔ جس کا انکشاف اپوزیشن جماعت سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون رکن نے کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک صوبائی وزیر حکومتی پارٹی کی کسی خاتون رکن کو دل دے بیٹھا ہے۔ اور معشوقہ بھی اپنے دل میں وزیرموصوف کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ بات اگر دو دلوں کے درمیان رہتی تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔ اپوزیشن کی خاتون رکن کو گلہ ہے کہ وزیرباتدبیر کے اس عشق کی وجہ سے دوسری خواتین ارکان کی حق تلفی ہورہی ہے۔ یہ واضح نہیں کہ ’’ حق تلفی ‘‘ سے معزز رکن کا کیا مطلب ہے۔ان کا الزام تھا کہ نوازشات کی بارش صرف معشوقہ پر ہو رہی ہے۔ کئی بار یہ گلہ بھی کیا گیا کہ ۔ اے خامہ برانداز چمن کچھ تو ادھر بھی۔ مگر مجال ہے کہ عاشق کی نگاہ ایک لمحے کے لئے بھی مرکز نگاہ سے ہٹی ہو۔ موصوفہ نے دھمکی دی کہ دیگر خواتین ارکان کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ تو وہ عشق کی ساری کہانی میڈیا کے سامنے بیان کرکے پورا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑ دے گی۔ اس دھمکی پر حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والی خواتین نے بھی سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ فطری بات ہے کہ خواتین کی محفل میں عشق کی بات چھڑ جائے تو مجلس میں بیٹھی خواتین کہاں چپ رہ سکتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔ لاکھ رازداری بھی رکھیں۔ تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ خدشہ ہے کہ ایوان کے احاطے میں یہ راز افشا ہونے کے بعد پیار بھرے دلوں میں دوری پیدا ہوجائے۔ اب شاید عاشق کی طرف سے معشوق کے نام ساحر لدھیانوی کے الفاظ میں یہ آخری محبت نامہ بھیجا جائے گا۔’’ نہ میں تم سے کوئی امید رکھوں دل نوازی کا۔۔۔ نہ تم میری طرف دیکھو غلط انداز نظروں سے۔۔ نہ میرے دل کی دھڑکن لڑکھڑائے میری باتوں سے۔۔ نہ ظاہر ہو تمہاری کشمکش کا راز نظروں سے۔۔ چلو ایک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں‘‘۔عاشق کی طرف سے آخری محبت نامہ ملنے کے بعد شاید معشوق بھی اسی بحر اور وزن میں یوں جوابی پتر لکھ دے کہ ’’ تعارف روگ بن جائے تو اس کا بھولنا بہتر۔۔ تعلق بوجھ بن جائے تو اس کاتوڑنا اچھا۔۔ وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن۔۔ اسے ایک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا۔۔ چلو ایک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں،،۔یوں پیار کی کہانی کا اختتام ہوگا۔ دنیا والے پیار بھرے دو شرمیلے نینوں کو کبھی ملنے نہیں دیتے۔ سماج کی دیواریں ہر جگہ پیار کرنے والوں کے سامنے حائل ہوتی ہیں۔ سٹیٹس کو کے حامی نہیں چاہتے کہ ایوان میں پارلیمانی روایات سے ہٹ کر بھی کچھ ہوجائے۔ پارلیمانی روایات بھی لوگوں نے خود بنائی ہے اور انسان کی بنائی ہوئی ہر چیز قابل اصلاح ہوتی ہے۔ فرانس کے حالیہ انتخابات میں عوام نے چودہ سال کی عمر میں اپنی چالیس سالہ ٹیچر سے عشق کرنے والے نوجوان کو اپنا صدر منتخب کیا۔ یہ بھی عام روایت سے ہٹ کر نئی روایت ہے۔ امریکہ میں رائے دہندگان نے سنجیدہ اور تجربہ کار سیاست دانوں پر ڈونلڈ ٹرمپ کو ترجیح دی اور اسے ایوان صدر تک پہنچا دیا۔ امریکی سیاسی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے۔ بھارت میں بھی ایک چائے والا وزیراعظم بن بیٹھا ہے۔ یہ کوئی معمولی تبدیلی نہیں۔ اگر کل کلاں ہمارا سوشل میڈیا کا چائے والا بھی صوبے کا وزیراعلیٰ بن جاتا ہے۔ تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ سیاست میں سب کچھ ہوسکتا ہے۔

Translate »
error: Content is protected !!