Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

518 میگاواٹ کے 6منصوبے محمد شریف شکیب

May 8, 2017 at 10:25 am

خیبر پختونخوا حکومت نے نجی اداروں کے تعاون سے صوبے میں 518میگاواٹ کی پیداواری گنجائش کے چھ بجلی گھر وں کی تعمیر کے منصوبے کو حتمی شکل دیدی ہے۔ گیارہ نجی کمپنیوں نے ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کے لئے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ ایک ارب پچاس کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والے ان بجلی گھروں پر کام اگلے دومہینوں کے اندر شروع ہوگا اور دو سال کے عرصے میں یہ منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔ ان منصوبوں سے ہزاروں افراد کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔اور سستی بجلی عوام کو میسر آئے گی۔

ان بجلی گھروں میں 188میگاواٹ کا ناران ہائیڈرو پاورپراجیکٹ مانسہرہ، 102میگاواٹ کا شیگو کس پراجیکٹ دیر،99میگاواٹ کا ارکاری گول پراجیکٹ چترال، 96میگاواٹ کا بٹاکنڈی پراجیکٹ مانسہرہ،21میگاواٹ کا غوربند پراجیکٹ شانگلہ اور 12میگاواٹ کا نندی ہار پاور پراجیکٹ بٹگرام شامل ہیں۔اس کے علاوہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت پانی، تیل، گیس، کوئلے اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے متعدد منصوبے زیر غور ہیں۔خیبر پختونخوا کو قدرت نے آبی وسائل سے نہایت فیاضی سے نوازا ہے تاہم صوبے کا بیشتر علاقہ پہاڑی ہونے کی وجہ سے ان آبی وسائل کو زرعی مقاصد کے لئے پوری طرح استعمال میں لانا ممکن نہیں۔ پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کی راہ میں بھی کئی رکاوٹیں حائل ہیں جن میں فنی مہارت کی کمی، سیاسی عدم استحکام اوروسائل کی کمی شامل ہیں۔ اٹھارویں ترمیم سے قبل صوبوں کو پچاس میگاواٹ تک بجلی گھر بنانے کی اجازت تھی۔ لیکن وسائل کی کمی کے باعث ان سہولیات سے استفادہ نہیں کیا جاسکا۔

صوبوں کو زیادہ بجلی پیدا کرنے کا اختیار ملنے کے باوجود وسائل کی کمی کا مسئلہ ہنوز درپیش ہے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کے دور دراز علاقوں میں لوگوں کی مقامی ضروریات پوری کرنے کے لئے 35میگاواٹ کے 356 چھوٹے بجلی گھروں کی تعمیر کا منصوبہ بنایا ہے۔ جن میں سے ڈیڑھ سو بجلی گھروں پر کام مکمل ہوچکا ہے۔ باقی منصوبے بھی اس سال کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔جبکہ واپڈا کے زیرانتظام 3478میگاواٹ کے تربیلہ اور243میگاواٹ کے ورسک پاور ہاوسز 1950کے عشرے میں تعمیر کئے گئے تھے۔ درگئی میں بیس میگاوات ، الائی خوڑ میں 121میگاواٹ، خان خوڑ میں 72میگاواٹ، دوبر خوڑ میں 130اور گومل زام میں 17میگاواٹ کے بجلی گھر بھی واپڈا کے زیر انتظام چل رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کے زیرانتظام بائیس میگاواٹ کے جابن پراجیکٹ، ایک سو آٹھ میگاواٹ کے گولین گول ، 128میگاواٹ کے کیال خوڑ اور 1410میگاواٹ کے تربیلہ توسیعی منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔ کرم تنگی ڈیم سے 83، بھاشا دیامر ڈیم سے 4ہزار، تھاکوٹ ڈیم سے دو ہزار آٹھ سو ، منڈا ڈیم سے سات سو چالیس اور پٹن ڈیم سے دو ہزار آٹھ سو میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی دفتری کام ہوچکا ہے لیکن عملی کام اب تک شروع نہیں ہوسکا۔ پونے دو ارب ڈالر کی لاگت سے مانسہرہ میں سکی کناری پراجیکٹ پر کام 2020تک مکمل ہونے کی توقع ہے اس پراجیکٹ سے آٹھ سو ستر میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی۔نجی شعبے کے اشتراک سے 147میگاواٹ پترند پراجیکٹ مانسہرہ، 215میگاواٹ کے اسریت کدام سوات، 157میگاواٹ کے مدین سوات، 548میگاواٹ کے کائیگاہ کوہستان اور 496میگاواٹ کے سپات گاہ پالس پاور پراجیکٹ پر بھی کام جاری ہے۔626میگاواٹ کی پیداواری گنجائش والے منصوبوں مٹلتان، لاوی، شرمائی، ژیندولی اور شاگوسین پر کاغذی کام تو ہوا ہے۔

لیکن منصوبوں پر عملی کام شروع ہونے کا انتظار ہے ۔ اسی طرح چترال میں گہریت ، سوئرلشٹ، پریئت، لاسپوراور میراگرام کے علاوہ ناران اور بالاکوٹ میں بجلی گھروں کی جائزہ رپورٹ مکمل ہونے کے باوجود مالی وسائل کی کمی کے باعث عملی کام شروع نہیں ہوسکا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ گرمی شروع ہوتے ہی بجلی کا بحران سراٹھانے لگا ہے۔ شہری علاقوں میں بارہ گھنٹے اور دیہی علاقوں میں اٹھارہ سے بیس گھنٹے روزانہ بجلی غائب رہتی ہے۔ بجلی کا شارٹ فال ساڑھے چھ ہزار میگاواٹ سے بھی تجاوز کرگیا ہے۔ کارخانے بند ہورہے ہیں۔ کاروباری سرگرمیاں ماند پڑنے لگی ہیں۔ عوامی سطح پر شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔صوبائی حکومت کو توقع ہے کہ چین کے ساتھ حال ہی میں طے پانے والے معاہدوں کی بدولت مذکورہ بیشتر منصوبوں کے لئے وسائل دستیاب ہوں گے۔

Translate »
error: Content is protected !!