Chitral Times

17th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

15لاکھ آبادی کی زبان کہوار نظر انداز کیوں؟ ………محمد شریف شکیب

May 8, 2017 at 7:23 am

چترال کے تعلیمی اداروں میں بچوں کو پہلی جماعت سے مادری زبان کہوار میں تعلیم دینے کا آغاز ہوگیاہے ۔ اب وہاں کے بچے الف سے انار کے بجائے الف سے ایوکون، اڑی، ب سے برموغ، پ سے پلوغ، ت سے تاڑ، ٹ سے ٹونگ،ج سے جواری، چ سے چموٹ،اور د سے دوات کے بجائے دڑوم کا ورد کرکے حروف تہجی کی پہچان میں مصروف ہیں۔

کہوار کو تعلیمی نصاب میں شامل کرنے کا فیصلہ اس زبان کی اہمیت کا سرکاری طور پر اعتراف ہے۔ پشتو اور ہندکو کے بعد کہوار اس خطے میں بولی جانے والی تیسری بڑی زبان ہے یہ تقریبا پندرہ لاکھ افراد کی مادری زبان ہے۔ چترال کے طول و عرض کے علاوہ گلگت بلتستان کے ضلع غذر ، سوات کے علاقہ کالام اور وسطی ایشیا کے کچھ علاقوں میں کہوار زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے۔کہوار زبان کے حروف تہجی تقریبا دو سو سال قبل مرتب کئے گئے تھے۔

اردو حروف تہجی سے کہوار کے چھ حروف اضافی ہیں۔ جن کو یونی کوڈ کرکے کمپیوٹر میں کمپوزنگ کے لئے سہل بنادیا گیا ہے۔ کہوار زبان کی ترویج و ترقی میں شاعروں، ادیبوں، دانشوروں ، قصہ گو افراد، اساتذہ اور اہل قلم کا اہم کردار رہا ہے۔ جن میں بابا ایوب، صمصام الملک، محمد شکور غریب، بابا محمد سیار،شیر ملک، یارخونو حکیم اور محمد غفران سے لے کر ولی زار خان ولی، گل نواز خاکی، امیرگل، عنایت اللہ فیضی، امین الرحمن چغتائی، فداالرحمان،شیر ولی خان اسیر، مولانگاہ،نقیب اللہ رازی ، مرزا علی جان اور موجودہ دور کے شاعروں، ادیبوں، صحافیوں، کالم نگاروں سمیت سینکڑوں نام شامل ہیں۔میرے استاد محترم قاضی حمید الرحمان جب اتالیق محمد شکور غریب کی نظم کلاس میں ہمیں سناتے۔ توخوشی اور تعجب کا ملاجلا احساس ہوتا۔ کہوار اور فارسی کے الفاظ کو ملاکر انہوں نے شاہکار نظم تخلیق کی تھی۔ ’’اے دل تو یکی سیر بہ عالم نو کورس کو۔ یک چند تماشا ای دیشو جم نو کورس کو۔۔بیدل کی اوشوئی موش نو تاریر غیرتہ ہرگز۔ عزت کی تہ خوش تن سورو رستم نو کورس کو۔ شمشاد تہ نوپوشی تھے کوروئی دعویٰ قامت۔ اے نخل صنوبر توغو ملزم نو کورس کو‘‘۔۔کہوار زبان کی قدیم لوک گیت اشورجان کو کسی بھی علاقائی زبان کی طویل ترین نظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

بابا سیار نے اپنے مقبول گیت ’’ یارمن ہمین‘‘ مرتب کرکے کہوار ادب کو نئی بلندیوں سے متعارف کرایا۔پھر بلبل چترال امیر گل نے کہوار گیتوں کو تشبیات اور استعاروں کی مدد سے بام عروج تک پہنچایا۔ امیر گل کے کلام کا موازنہ کسی بھی زبان کے ہم عصر شعراء کے کلام سے کیا جاسکتا ہے۔ان کے کلام میں جو مٹھاس، گہرائی اور فلسفیانہ انداز ہے وہ اسے اپنے ہم عصر شعراء میں ممتاز مقام کا حامل بناتا ہے۔ نمونے کے طور پر ان کے چند اشعار کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا۔ امیرگل کہتے ہیں کہ ’’خوشی دی عبث اللہ کہ نو دیاک بیرائی رویان۔ نصیب ، روزی اجل ازالہ شک بیرائی رویان، تن خوش رویوتے گلہ بہچاک بیرائی رویان‘‘۔(ترجمہ) جب تک کسی کو پالینا اللہ کو منظور نہ ہو۔ کسی کو دل سے چاہنا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ نصیب، روزی اور اجل کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کرچکا ہوتا ہے۔لیکن نصیب میں میلاپ نہ ہونے کے باوجود محبوب سے شکوہ ضرور ہوتا ہے) امیر گل آگے چل کر اسی گیت میں زمانے کی بے وفائی کا شکوہ ان الفاظ میں کرتے ہیں۔( دوش پھک جم اوشوئی ہنونو سار پنگاچھوئی پھک خور۔ دنیو مثال ازیزانہ نگیرو شوغور۔ فلک کوسوم وفاکوری شیر وا کوسوم بہچور) ترجمہ: گذری ہوئی ہر گھڑی آنے والے دور سے اچھی ہوتی ہے۔

کل کے مقابلے میں آج اور آج کے مقابلے میں آنے والا کل بدتر ہوگا۔ دنیا کی مثال اس ریت کی مانند ہے جس میں سے سونے کے تمام زرات چھان کرنکالے گئے ہوں۔ اس فلک پیر نے کل کسی سے وفا کی ہے اور نہ آئندہ اس سے وفا کی امید ہے)۔ امیر گل کے کلام کا موازنہ رحمان بابا، غنی خان، پطرس بخاری، احمد فراز، فیض احمد فیض ، منیر نیازی اور حبیب جالب سے ہی نہیں۔ نطشے، فشطے، ورڈز ورتھ اور جان کیٹس سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس دیباچے کا بنیادی مقصد کہوار زبان کی اہمیت اور کہو ثقافت کے تنوع کا احاطہ کرنا ہے۔ خیبر پختونخوا میں 24زبانیں بولی جاتی ہیں۔ جن میں سے پشتو، ہندکو اور کہوار بڑی زبانیں ہیں۔چترال میں کہوار کے علاوہ چودہ دیگر زبانین بھی بولی جاتی ہیں جن میں کلاشہ، پالولہ، گوارباٹی، دمیلی، یدغا، شیخانی، دری، منجانی اورگوجری شامل ہیں۔ہر زبان ایک الگ تاریخی حوالے اور ثقافت کی امین ہے۔ زبان و ادب اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے نام پر صوبائی اور وفاقی سطح پر کئی ادارے بنائے گئے ہیں اور غیر سرکاری سطح پر بھی اس سلسلے میں بہت سے ملکی اور غیرملکی ادارے سرگرم ہیں۔لیکن ان کی اکثریت بڑے ہوٹلوں میں سمینار، ورکشاپ اور مذاکروں تک محدود ہیں۔ تاہم مقامی ادبی تنظیموں نے اپنی زبان، ثقافت اور اقدار کو زندہ رکھنے اور ترقی دینے کے لئے جو جدوجہد کی۔ وہ قابل ستائش ہے۔ حکومتی سطح پر علاقائی زبانوں کو نظر انداز کرنے کی تازہ اور زندہ مثال حالیہ مردم شماری ہے جس میں پاکستان میں بولی جانے والی 64بڑی زبانوں میں سے صرف 9زبانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ 1998میں آخری مردم شماری کے بعد سیاسی حکومتوں نے تازہ مردم شماری پر دانستہ طور پر توجہ نہیں دی۔ اور اعدادوشمار کے بغیرترقی کے نام پر ہوائی قلعے بناتے رہے۔

سپریم کورٹ نے جب حکومت کو مردم شماری کی تاریخ دینے کا نوٹس دیا تو بادل نخواستہ پندرہ مارچ سے پچیس مئی تک کی تاریخ دی گئی۔ جب مردم شماری فارم چھپ کر آگئے تو پتہ چلا کہ بیشتر قومیتوں اور ان کی زبانوں کا فارم میں تذکرہ ہی نہیں۔ پشاور ہائی کورٹ نے سکھوں اور کالاش قبیلے کی مردم شماری فارم میں نشاندہی نہ ہونے پر محکمہ شماریات کو نوٹس دیدیا۔ تو موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہوار زبان و ثقافت سے محبت کرنے والے جوانسال وکیل شاہد علی یفتالی ایڈوکیٹ اور معروف ماہر تعلیم و لسانیات ، کالم نگار اور دانشور عنایت اللہ فیضی بھی عدالت عالیہ میں اپنی فریاد لے کر پہنچے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 199کے تحت دائر کہوار زبان کے مقدمے کی پیروی معروف قانون دان بیرسٹر وقار علی، عامر علی ایڈوکیٹ اور شہاب رشید ایڈوکیٹ کے علاوہ خود درخواست گذار شاہد علی یفتالی ایڈوکیٹ بھی کر رہے ہیں۔ بیرسٹر وقار علی نے چترال قوم اور کہوار زبان کی محبت میں یہ مقدمہ رضاکارانہ طور پر لڑنے کا فیصلہ کیا۔

جس پر کہو قوم اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نمائندہ افراد نے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ عدالت عالیہ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ لاکھوں کی آبادی کے مادری زبان کو نظر انداز کرنا ملکی آئین کے آرٹیکل 199سے متصادم ہے۔ کہوار ملک میں بولی جانے والی چونسٹھ بڑی زبانوں میں شامل ہے جن میں سے صرف نو زبانوں کو اعدادوشمار کے جائزے میں شامل کرنا دیگر زبانوں اور ثقافتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ مردم شماری کی بنیاد پر ہی پتہ چل سکتا ہے کہ کسی زبان کے بولنے والوں کی مجموعی تعداد کتنی ہے۔ ان میں مرد، خواتین، بچے، بوڑھے، معذور، خواندہ، تعلیم یافتہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ، برسرروزگار اور بے روزگار کتنے ہیں۔کتنے رقبے پر ان کی آبادی ہے۔ ان کا ذریعہ معاش کیا ہے۔ عدالت عالیہ میں دائر درخواست میں وزارت داخلہ کے توسط سے وفاق پاکستان، چیف کمشنر شماریات،حکومت خیبر پختونخوا اور صوبائی محکمہ شماریات کو فریق بنایا گیا ہے۔ رٹ میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپنی زبان کا تحفظ اور ترویج آئین کے آرٹیکل 28اور251کے تحت شہریوں کا حق اور حکومت کا فرض ہے۔

مردم شماری فارم میں 9زبانوں کو شامل کیا گیا اور باقی زبانوں کے لئے فارم میں ’’ دیگر‘‘ کا خانہ دیا گیا ہے۔ اگر تمام زبانوں کو فارم میں جگہ دینا ممکن نہ تھا تو صرف مادری زبان کا خانہ لکھا جاتا۔ تاکہ ہر شہری اپنی مادری زبان کا نام کے ساتھ اندراج کرواتا۔ آئین کا آرٹیکل 33اور 37بھی علاقائی ثقافت اور زبانوں کے تحفظ پر دلالت کرتا ہے۔ رٹ میں عدالت عالیہ سے استدعا کی گئی ہے کہ کہوار زبان کو 25اپریل سے چترال میں شروع ہونے والی مردم شماری کے فارم میں شامل کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں۔ اور عدالت عالیہ اس حوالے سے جو بھی مناسب سمجھے مزید رعایت دلوائے۔ اور وفاقی حکومت کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ صوبے کی ایک بڑی آبادی کی زبان، ثقافت اور تمدن کی بقاء اور تحفظ کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ عدالت عالیہ نے مقدمہ کی پہلی پیشی کے دوران محکمہ شماریات کو ہدایت کی کہ 20اپریل کو اگلی پیشی کے موقف پر عدالت کے سامنے وضاحت کی جائے کہ 64میں سے 9زبانوں کو کس بنیاد پر مردم شماری فارم میں شامل کیا گیا اور باقی زبانوں کو کس بنیاد پر نظر انداز کیا گیا۔

مردم شماری کا دوسرا مرحلہ 25اپریل سے شروع ہورہا ہے جس میں ملک کے 83اور خیبر پختونخوا کے 13اضلاع میں مردم وخانہ شماری ہوگی۔ جس میں ضلع چترال بھی شامل ہے ۔ توقع ہے کہ مردم شماری کے آغاز سے قبل ہی کہوار زبان کے تحفظ کے لئے مناسب اقدامات کئے جائیں گے۔ اور اس سلسلے میں شاہد علی یفتالی، عنایت اللہ فیضی اور بیرسٹر وقار علی کی مخلصانہ اور بے لوث کوششیں ضرور رنگ لائیں گی۔

Translate »
error: Content is protected !!