Chitral Times

21st August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال ، کشیدہ صورت حال پر قابو پالیا گیا، 100سے زیادہ افراد گرفتار ، ملغون شخص سوات منتقل

May 8, 2017 at 7:10 am

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) شاہی مسجد چترال میں گزشتہ روز ایک شخص کی جانب سے امامت اور نبوت کا مبینہ دعویٰ کرنے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال پر قابو پالیا گیا ہے جس کے لئے ضلع بھر میں دفعہ 144فافذ کرنے کے بعد شہر میں پولیس ، چترال سکاوٹس اور پاک آرمی کی نفری بھاری تعداد میں تعینات کئے گئے تھے جوکہ چترال شہر آنے اور جانے کے راستوں کے ساتھ ساتھ اندرونی سڑکوں کی بھی سخت نگرانی کرتے ہوئے بغیر کسی معقول وجہ کے شہر میں داخل ہونے والوں پر کڑی رکھتے تھے۔
شہر اور مضافات میں مکمل طور پر کرفیو کا سماں رہا اور کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند رہے تاہم پشاور بورڈ کے زیر اہتمام انٹرمیڈیٹ کے امتحانات جاری رہے ۔ سڑکوں پر موٹر گاڑیوں کی ٹریفک بھی نہ ہونے کے برابر تھی جس کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں کی بندش کی وجہ سے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہوا۔ہفتے کے روز چترال شہر کے قریبی علاقوں سے احتجاج کرنے والوں نے نعرہ بازی شروع کی ۔ تو پولیس کی طرف سے شیلنگ اور ربڑ کی گولیاں چلائی گئیں۔جس سے مظاہرین منتشر ہو گئے ۔بالائی علاقہ تورکہو رائین میں احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا ۔ اور حکومت سے اس واقعے کا سختی سے نوٹس لینے اور مرتکب شخص کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ علاقہ کوہ ، برنس و دیگر دیہات سے چترال آنے والے احتجاجی جلوس سے کمانڈنٹ چترال ٹاسک فورس کرنل نظام الدین شاہ اور ڈی پی او چترال سید علی اکبر شاہ نے شہر میں داخل ہونے سے پہلے کاری کے مقام پر راستے میں اُن سے مذاکرات کئے ۔ جو کامیاب ہوئے ۔ اور مظاہرین راستے ہی سے گھروں کو واپس لوٹ گئے ۔
دریں اثناء جمعہ کے روز بلوہ کرنے کے پاداش میں ڈیڑھ سو افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے ذریعے ان کے بارے میں تحقیقات کے بعد ان کے خلاف باضابطہ ایف آئی آر درج کیا جائے گا۔ نبوت کا مبینہ دعویٰ کرنے والے ملزم رشید الدین کو انسداد دہشت گردی کے جج کے سامنے پیش کرکے ان کا ریمانڈ لینے کے لئے سوات بھیج دیا گیا جن کے خلاف تغزیرات پاکستان کے دفعہ 295۔سی کے علاوہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے دفعات 6اور 7کے تحت بھی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ چترال میں کشیدہ صورت حال کے پیش نظر ڈی۔ آئی۔جی ملاکنڈ اختر حیات خان گنڈاپور بھی چترال پہنچ گئے ہیں۔ کمانڈنٹ چترال ٹاسک فورس کرنل نظام الدین شاہ نے خود ہی شہر میں گشت کرکے صورت حال کا جائزہ لیتا رہا ۔

Translate »
error: Content is protected !!