Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پانچ فیصد ووٹوں کی شرط……….. محمد شریف شکیب

May 8, 2017 at 7:13 am

الیکشن کمیشن نے 2018کے عام انتخابات میں پول شدہ ووٹوں میں سے پانچ فیصد سے کم ووٹ لینے والی سیاسی جماعتوں پر پابندی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔ اگر2013کے عام انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو پاکستان مسلم لیگ ن 32.77فیصد ووٹ لے کر ملک کی سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری تھی۔ دوسرے نمبر پر پاکستان تحریک انصاف نے 16.92فیصد ووٹ لئے تھے۔ پیپلز پارٹی نے 15.33فیصد اور متحدہ قومی موومنٹ نے 5.41فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ جمعیت علمائے اسلام نے 3.22فیصد، مسلم لیگ ق نے 3.11فیصد، جماعت اسلامی نے 2.2فیصد ، عوامی نیشنل پارٹی نے ایک فیصد، پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے اعشاریہ 47فیصد اور قومی وطن پارٹی نے اعشاریہ دس فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔ اگر الیکشن کمیشن کے انتخابی اصلاحات کی تجویز کو منظور کرتے ہوئے پانچ فیصد سے کم ووٹ لینے والی پارٹیوں پر پابندی لگادی گئی تو اے این پی، جماعت اسلامی، قومی وطن پارٹی، ملی عوامی پارٹی، پیپلز پارٹی غنویٰ گروپ، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ پگاڑا گروپ، بلوچستان نیشنل پارٹی، تحریک استقلال ، عوامی مسلم لیگ ، جمعیت اہلحدیث اور پاکستان عوامی تحریک سمیت تین سو سے زیادہ سیاسی پارٹیوں کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے۔

جس پر سیاسی جماعتوں نے اظہار تشویش کے ساتھ ہلکا سا احتجاج بھی کیا ہے۔پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی مجموعی تعداد 336تک پہنچ گئی ہے۔ جو پاکستان میں اظہاررائے کی آزادی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کسی کو اچھی ملازمت یا ڈھنگ کا کام نہ ملے تو اپنی سیاسی جماعت بناکر اس کا سربراہ بن جاتا ہے۔ ان میں سے بعض جماعتیں اتنی گمنام ہیں کہ شاید ان کے سربراہوں کو بھی اپنی پارٹی کے نام یاد نہ رہے ہوں۔ الیکشن کمیشن نے شاید رجسٹریشن فیس کی خاطر یا ان کے سربراہوں کا دل رکھنے کے لئے انہیں اپنے پاس رجسٹرڈ کیاہے۔ان میں بعض پارٹیوں کے نام کافی دلچسپ بھی ہیں۔ جن کے بارے میں شاید ایک فیصد پاکستانی بھی نہ جانتے ہوں۔

ان میں آپ جناب سرکار پارٹی، عام پاکستانی اتحاد، عام انسان موومنٹ، آل پاکستان عام آدمی پارٹی، آل پاکستان غرباء لیگ، اللہ اکبر پارٹی، عوام لیگ، عوامی راج پارٹی، آزاد پاکستان پارٹی،جنرل مشرف حمایت تحریک، غریب آدمی پارٹی، آئی ایم پاکستان، اسلامک لا پاکستان،جنت پاکستان پارٹی، کاروان ملت پاکستان،مددگار پاکستان، خودمختار پاکستان پارٹی ، موو آن پاکستان، محب وطن روشن پاکستان، مستقبل پاکستان پارٹی وغیرہ شامل ہیں۔ اپنے قارئین کی معلومات میں اضافے کے لئے سیاسی پارٹیوں کے دیگر سینکڑوں دلچسپ نام بھی ہمارے پاس ہیں لیکن اس خدشے کے پیش نظر ہم یہاں قلم روک لیتے ہیں کہ ادارتی بورڈ ان ناموں کو اشتہار کے زمرے میں شامل نہ کر بیٹھے۔انتخابی اصلاحات کی کمیٹی نے عام انتخابات کو شفاف، غیر جانبدارنہ اور منصفانہ بنانے کے لئے 36تجاویز دی ہیں۔

جن میں الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی لحاظ سے خود مختار بنانا، بائیومیٹرک سسٹم متعارف کرانا، ووٹون کی کمپیوٹرائز ڈ گنتی کا نظام، انتخابی عملے کی سیکورٹی، انتخابی عذرداریوں کا نظام آسان بنانا اور انتخابات کی نگرانی کے لئے غیر ملکی مبصرین بلانے کی تجویز بھی شامل ہیں۔ ہمارے ہاں لوگ انتخابی عمل میں دلچسپی اس لئے نہیں رکھتے کہ انہیں آج تک جمہوری عمل سے کوئی ریلیف نہیں ملا۔انتخابی مہم کے دوران اپنے لیڈروں کے حق میں نعرے لگا لگا کر کارکنوں کا گلہ بیٹھ جاتا ہے انتخابات کے بعد لیڈر انہیں پہچاننے سے بھی انکار کرتے ہیں۔عوام کو حق رائے دہی کی اہمیت جتانا بھی انہی سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔

خاص طور پر مقررہ ہدف سے کم ووٹ لینے والی جماعتوں کو اس شعبے میں کام کرنا ہوگا۔اس سے زیادہ تشویش کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ محض 32فیصد ووٹ لینے والی جماعت ملک پر حکومت کر رہی ہے۔ 60فیصد لوگوں نے انتخابی عمل میں حصہ ہی نہیں لیا۔ چالیس فیصد رائے دہندگان میں سے بھی ہر ایک سو میں سے 32افراد نے حکمران جماعت کو ووٹ دیا۔ گویا پول شدہ ووٹوں میں سے بھی 68فیصد نے حکمران جماعتوں کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ اس حساب سے بیس کروڑ ووٹروں میں سے ڈیڑھ کروڑ کے مینڈیٹ پر حکمرانی ویسے بھی جمہوری روح کے منافی ہے۔ لیکن ہم اپنے جمہوری نظام کا موازنہ برطانیہ، فرانس، سوئزرلینڈ اور ترکی سے کیوں کریں۔ہمارا اپنا منفرد نظام ہے۔ یہاں اعشاریہ پانچ فیصد کی عوامی تائید کے بغیر دس دس سال تک حکومتیں چلتی رہی ہیں۔ ہمارا جمہوری نظام بھی ہماری روایات اور اقدار سے ہم آہنگ ہے اور ہم اپنی روایات اور اقدار پرہر چیز کو قربان کرسکتے ہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!