Chitral Times

16th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پانامہ کیس کا تاریخی فیصلہ محمد شریف شکیب

May 8, 2017 at 7:31 am

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے پانامہ کیس کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں چٹکلے چھوڑنے کی اپنی روایت برقرار رکھتے ہوئے کہا ہے کہ پپو دو مضامین میں فیل اور تین میں کمپارٹ آنے کے باوجود رشتہ داروں میں مٹھائیاں بانٹ رہا ہے۔ ساٹھ دن بعد شام غریباں منانے کی باری آئے گی۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے دو قدم آگے بڑھ کر کہا ہے کہ میاں صاحب کو ان کے گھر نہیں۔

بلکہ بڑے گھر بھیجنے کا وقت آگیا ہے۔ انہیں روٹیاں توڑنے اور پائے کھانے کے علاوہ کچھ نہیں آتا۔ ان اشیاء کا بندوبست بڑے گھر میں بھی کیا جاسکتا ہے۔ پانامہ کیس کے بارے میں خود معزز جج صاحبان نے پہلے ہی ریمارکس دیئے تھے کہ فیصلہ ایسا تاریخی ہوگا کہ اسے طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ اس لحاظ سے تاریخی فیصلہ ہے کہ دونوں فریق اسے اپنی اپنی فتح قرار دے رہے ہیں۔ جسے انگریزی میں ون ون سیچویشن کہا جاتا ہے۔ یعنی شکست کسی کی نہیں ہوئی ۔ جیت سب کی ہوئی ہے۔ مسلم لیگ ن والے پھولے نہیں سمارہے کہ میاں نااہل ہونے سے بچ گئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ نے تحریک انصاف کے تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔

جبکہ تحریک انصاف والے کہتے ہیں کہ دو سینئر ججوں کی طرف سے وزیراعظم کو نااہل قرار دینے کا فیصلہ اور پورے بنچ کی طرف سے وزیراعظم کے جوابات کی دوبارہ چھان بین اور انہیں بچوں سمیت جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا حکم پی ٹی آئی کی فتح ہے۔ابھی دونوں فریقوں کی جانب سے اپنی اپنی فتح کا جشن منانے اور مٹھائیاں بانٹنے کا سلسلہ جاری تھا کہ آصف زرداری نے ڈرامائی انٹری دیتے ہوئے پریس کانفرنس میں پانامہ کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے پانچ جج صاحبان نواز شریف کے موقف کو یکسر مسترد نہ کرسکے۔ تو کیا نیب، ایف آئی اے اور سٹیٹ بینک کو گریڈ سترہ اٹھارہ کا کوئی افسر انہیں مجرم قرار دینے کی جرات کرسکتا ہے؟ زرداری نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا وزیراعظم اور ان کے صاحبزادے تھانے جاکر اپنا بیان ریکارڈ کرائیں گے۔یا تحقیقاتی ٹیم وزیراعظم ہاوس جا کر ان کا موقف لے گی ؟ْبات دل کو لگی تو تحریک انصاف کی قیادت کو یہ فکر دامن گیر ہوگئی کہ محنت انہوں نے کی تھی اور پھل آصف زرداری توڑ کر لے جارہے ہیں۔انہوں نے بھی فوری طور پر اپنی حکمت عملی تبدیل کردی اور 28اپریل کو اسلام آباد میں احتجاجی جلسے کا اعلان کردیا۔

پانامہ فیصلے کو پی ٹی آئی کی کامیابی قرار دینے والے تجزیہ کار بھی کنفیوز ہوگئے کہ وہ اس فیصلے کو جشن کا نیا انداز سمجھیں یا احتجاج۔ادھر سابق چیف جسٹس بھی ایک چینل پر بیٹھ کر دل کے پھپھولے کھولنے لگا۔ عدالتی فیصلے کا ایک ایک پیراگراف پڑھ کر انہوں نے مسلم لیگ ن کی قیادت سے سوال کیا۔ کہ فیصلے کے ہر جملے میں حکمران جماعت کے موقف کو مسترد کیا گیا ہے۔ تو پھر وہ جشن کس خوشی میں منارہے ہیں؟فیصلے پر عوام بھی خوش ہیں کہ انہیں روز روز سپریم کورٹ کے باہر لگنے والے تماشے سے توجان چھوٹ گئی۔ میڈیا والے بھی خوش ہیں کہ سپریم کورٹ نے ذمہ داری جے آئی ٹیم کو سونپ کر کیس کو مزید اڑھائی مہینوں تک زندہ رکھا۔ تجزیہ کاروں کی دکانیں بھی چلتی رہیں گی۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد عدالت عظمیٰ کیس کا حتمی فیصلہ کرے گی تو شاید بحث کے لئے میڈیا کو کوئی نیا موضوع مل جائے۔ حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ بھارتی ڈراموں کی طرح پانامہ کیس کی قسطیں بھی چلتی رہیں تاکہ عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹ جائے۔

جھلسانے دینے والی گرمی کے باوجود روزانہ اٹھارہ گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ ، پانی کی قلت، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ، امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال، سرحدوں پر کشیدگی اورمعاشی مسائل سے حکومت اور میڈیا کو چشم پوشی کا موقع مل جائے۔ نان ایشوز پر بحث و مباحثے جاری رہیں اور بات کو بجٹ تک کسی نہ کسی طرح کھینچا جائے۔ جب بجٹ کا ڈرامہ شروع ہوگا۔ تو الفاظ کے نئے گورکھ دھندے میں عوام کو آسانی سے الجھایا جاسکتا ہے۔ دو چار مہینے بجٹ کو سمجھنے میں گذرجائیں گے۔ اس کے بعد ملک میں انتخابات کی ہوائیں چلیں گی۔جلسے جلوس اور ریلیاں ہوں گی تو کسی عوام کو کل کی بات کہاں یاد رہے گی۔ خواجہ آصف نے بالکل درست کہا تھا کہ معاملے کو کچھ عرصے تک دبایا جائے۔ عوام کی یادداشت بہت کمزور ہے۔ چند دن گذر جائیں تو وہ سب کچھ بھول جائیں گے۔اور پھر سے یہ نعرہ مستانہ بلند ہوگا۔ دیکھو دیکھو کون آیا۔ شیر آیا شیر آیا۔

Translate »
error: Content is protected !!