Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

نیٹو:عالمی محاصراتی تنظیم

May 8, 2017 at 7:27 am

North Atlantic Treaty Organization ( (NATO)
ڈاکٹرساجد خاکوانی
drsajidkhakwani@gmail .com
ایک زمانے میں بادشاہوں کی افواج دشمن کے قلعوں کا محاصرہ کرلیاکرتی تھیں،دشمن قلعے کے اندر سے اپنا دفاع کرتا تھا۔بادشاہ کی افواج قلعے کے باسیوں کا معاشی ناطقہ بند کر دیتیں ،بعض اوقات پانی بھی بند کردیاجاتااور آمدورفت تو ویسے ہی قلعے سے باہر موجود فوجوں کے باعث معطل ہوچکی ہوتی تھی۔یہ بلیک میلنگ کا ایک طریقہ ہوتا تھا اس طرح بادشاہ کی افواج شہر والوں سے اپنی مرضی کے معاہدے کرواتی تھی،ان سے بھاری بھرکم خراج وصول کرتی،جرمانے اور لگان الگ سے وصول کیے جاتے،وہاں اپنے مرضی کے خلاف کام کرنے والوں کو طرح طرح کے الزمات لگا کر ان کو قتل یا پابند سلاسل کرتے اور ممکن ہوتا تو اس قلعے کو مستقل طور پر اپنی سلطنت میں بھی شامل کر لیتے تھے۔کہنے کو اگرچہ ہم آج ’’جدیددور‘‘میں زندہ ہیں لیکن اس’’ جدیددور‘‘میں بھی سیاسی وسعت پسندی اور عالمی معاشی بدمعاشی اسی طرح بلکہ اس سے بھی بدتر صورت میں موجود ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اب اس توسیع پسندانہ غنڈہ گردی پر ’’امن عالم‘‘کے عالمی ادارے اپنی قانون سازی کی مہر ثبت کر دیتے ہیں۔نیٹوانہیں مقاصد کی حامل ایک عسکری تنظیم ہے،جس کی دھمکی اور طوق دنیاکے ہر دشمن ملک کی گردن میں ڈال دیاجاتاہے۔

’’ناٹو‘‘کی تنظیم 4اپریل1949ء کو دوسری جنگ عظیم کے بعدوجود میں آئی،اسے ’’معاہدہ واشنگٹن ‘‘کے نام سے بھی یاد کیاجاتا ہے۔آغاز کے وقت اس تنظیم کے قیام کامقصد روسی علاقوں کا محاصرہ اور کیمونسٹ افواج کے عسکری اڈوں پر نظر رکھناتھا۔نیٹو کا دائرہ کار اپنے آغاز میں مشرقی یورپ کی روسی ریاستوں تک ہی محدود تھا۔اسکے تاسیسی رکن ممالک میں بیلجیم،کینیڈا،ڈنمارک،فرانس،آئس لینڈ،اٹلی،لیگزم برگ،نیدرلینڈ،ناروے،پرتگال،برطانیہ اور امریکہ شامل تھے۔1952ء میں ترکی اور یونان بھی اس میں شامل ہوگئے،1955ء میں مغربی جرمنی اس کارکن بنا،1982میں اسپین،1999میں پولینڈ،ہنگری اور جمہوریہ زک اور 2004میں بلغاریہ،اسٹونیا،لٹویہ،لیتھونیا،رومانیہ،سلواکیہ اور سولووینیا اس کے رکن بن گئے۔دوسری جنگ عظیم نے یورپی ممالک کو بری طرح متاثر کیاتھااور انکی معیشیت تباہی کا شکار ہوچکی تھی جبکہ افواج کا مورال بری طرح ٹوٹ پھوٹ کر روبہ زوال تھا۔شہروں سمیت یورپی معاشرت کا بنیادی ڈھانچہ تک اپنی بنیادوں سمیت متزلزل تھا۔یورپ کے بڑے بڑے ممالک کے عالمی شہرت یافتہ شہرکھنڈرات کا پتہ دیتے تھے ،ہرہرگھر سے کئی کئی لاشے اٹھ چکے تھے اور مرنے والے اس طرح مرے تھے کہ ان پر رونے والے بھی ساتھ ہی مر گئے تھے۔ان حالات میں روس جیسے ملک سے مقابلے کے لیے نئی افواج کی تیاری مشکل ہی نہیں ناممکن تھا،تب اجتماعی دفاع کا فیصلہ کیا گیا اور اس تنظیم’’ نیٹو‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔

ناٹو معاہدے کی شق نمبر پانچ اس کی اصل روح ہے جس کے مطابق یورپ یا شمالی امریکہ کے کسی ایک ملک پر فوج کشی کا مطلب ناٹو کے تمام ممالک پر فوج کشی ہوگا اور اقوام متحدہ کے آرٹیکل نمبر51کے مطابق یہ سب ممالک اپنے دفاع کی خاطر حملہ اور ملک یا ممالک سے مل کر جنگ لڑیں گے اور شمالی بحراوقیانوس کے ممالک کا مشترکہ دفاع کیاجائیگا۔ناٹو معاہدے کی شق نمبر6میں مشترکہ فوجی کاروائی کی جغرافیائی حدود متعین کی گئی ہیں جب کہ معاہدے کی دیگر شقیں رکن ممالک میں باہمی فوجی تعاون اور ایک دوسرے کو دفاعی طور پر مضبوط کرنے ، اپنے جمہوری اداروں کی نگہداشت کے بارے میں اور دوسرے یورپی ملکوں کے ناٹو میں شمولیت کے بارے میں ہیں۔یہ معاہدہ اگرچہ متحدہ سوویت یونین کے خلاف تھا لیکن اپنی تاسیس کے آدھی صدی بعد تک بھی اس عسکری ادارے نے کوئی فوجی کاروائی نہیں کی تھی اور سرد جنگ کے باعث روس ٹوٹ گیا،تب ایک صحافی نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل سے پوچھا کہ اب نیٹو کے قائم رہنے کاکیاجواز ہے؟؟تو جواب تھا کہ’’ اگرچہ روس ٹوٹ چکا لیکن اسلام ابھی زندہ ہے‘‘۔چنانچہ2001میں گیارہ ستمبر کے بعد پہلی دفعہ نیٹو نے اپنی فوجی کاروائی کاآغاز کیااور وہ بھی مسلمان ممالک کے خلاف۔

ناٹو معاہدے کے فوراََ بعد ایک ادارہ بنایا گیا جس کے ذمہ نیٹوکی جملہ کاروائیوں کی نگرانی تھا،’’شمالی بحراوقیانوس کونسل ‘‘نامی اس ادارے نے ناٹو کے ذمہ داران کا تعین کرنا شروع کیا اور دوسری جنگ عظیم کے جرنیل ڈیوڈ ڈی ایزن ہاورکو ناٹو کاپہلا سپریم الائڈکمانڈر مقرر کیاگیا،اس وقت تک یہ نیٹو کا واحد بڑا عہدہ تھا۔اسکے بعد تمام ممالک نے اپنے نیٹو نمائندوں کاتقررکیا اور سال بھر میں دو دفعہ انکی باہمی مشاورت کی خاطر اجتماع لازمی قرار دیا۔بعد میں فیصلہ ہواکہ نیٹو کا ایک سیکرٹری جنرل بھی ہوا کرے گااور نیٹو کا عسکری عہدیدارامریکہ سے اور سیکرٹری جنرل یورپ سے لیاجاتارہے گا۔نیٹو کی عسکری تنظیم سازی میں ایک ملٹری کمیٹی ہے جس میں رکن ممالک کے فوجی سربراہوں کے نمائدے شامل ہوتے ہیں،یہ دو بڑی بڑی کمانڈزکاتقررکرتے ہیں،ایک یورپین کمانڈ اور دوسری اٹلانٹک کمانڈ۔نیٹو کے اخراجات رکن ممالک مل کر برداشت کرتے ہیں۔

سوویت نونین نے نیٹو کے مقابلے میں ’’وارساپیکٹ‘‘کیا اوراس معاہدے میں اپنے ہم نظریہ ممالک کو شامل کر کے تو متفقہ دفاع کی حکمت عملی طے کی۔’’وارسا‘‘پولینڈکادارالحکومت ہے،یہاں14مئی 1955کو یہ معاہدہ ہوا اور اس میں روسی اشتراکی فکر کے حامل ممالک روس،البانیہ،بلغاریہ،چیکوسلواکیہ،مشرقی جرمنی،ہنگری،پولینڈ اور رومانیہ شامل تھے۔ان ممالک نے مل کر مشترکہ دفاع کا فیصلہ کیاجس کے تحت انکی افواج ایک متفقہ کمانڈ کے تحت آگئیں اور روس کو اجازت دے دی گئی کہ بوقت ضرورت اسکے فوجی اڈے رکن ممالک میں بنائے جاسکتے ہیں۔اس معاہدے کے ذریعے دراصل سوویت یونین عالمی معاملات میں اپنے کردار کا تعین چاہتی تھی تاکہ اسکے مفادات کا تحفظ بھی کیاجاتا رہے اور ’’قوت‘‘دنیاکاایک مستند اصول ہے اسی لیے اس معاہدے کے تحت سوویت یونین نے اپنے فوجی اڈے ،خلائی سیارے،دفاعی منصوبہ بندیاں اور فوجی کانواؤں کا یورپ میں داخلے کا راستہ ہموار کیااور عالمی ٹھیکیداروں پر اپنے دباؤ میں اضافے کاسامان کیا۔جہاد افغانستان کی کامیابی کے نتیجے میں سقوط ماسکو کے بعد وارسا سربراہی کانفرنس میں یکم جولائی 1999ء کو اس معاہدے کے باقائدہ اختتام کا اعلان کردیاگیااورروسی افواج یورپ کے جن جن ملکوں میں تھیں وہاں سے شرمندگی و ندامت کے ساتھ لوٹا دی گئیں۔

روس سے سرد جنگ کے بعدجب روس ٹوٹ گیااور عملاََنیٹو کی افادیت دم توڑ گئی تونیٹو کو ’’باہمی متحدہ‘‘دفاع کی خاطر زندہ رکھاگیااور یورپ کے وہ مسائل جن کے حل کے لیے فوج کی ضرورت پڑ سکتی ہے ایسے مسائل کے لیے بھی نیٹو کوبرقراررہنے کی سفارش کی گئی۔یہ سفارشات تو دراصل دکھانے کے دانت تھے تاکہ قوم کے سامنے اورصحافیوں کے سامنے اپنے فیصلوں کاجواز پیش کیاجاسکے جبکہ حقیقت یہی ہے کہ یہودی ذہن بہت دور کی دیکھ کر اس عالمی عسکری تنظیموں کومسلمانوں کے خلاف استعمال کرناچاہتا تھا۔چنانچہ1995ء میں بوسنیاکامحاصرہ کرنے والی اسی نیٹو کی افواج تھیں جنہوں نے باہر سے مسلمانوں کو کوئی کمک نہ پہنچنے دی اور اندر کے غیرمسلموں کو کھلی چھوٹ دیے رکھی کی وہ مسلمانوں کی نسل کشی کرتے رہیں۔اقوام متحدہ نے بوسنیاکے مسلمانوں کے لیے بتیس قراردادیں منظور کیں جن میں سے صرف ایک قرارداد پر عمل ہواجس میں درج تھا کہ بوسنیاکے مسلمانوں کو اسلحہ پہنچنے کے تمام راستے بندکر دیے جائیں اور یہ ’’حسین فریضہ‘‘نیٹو افواج نے سرانجام دیا کہ بری اور بحری ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ فضائی ناکہ بندی بھی کر دی اور قاضی حسین احمدؒ جب بوسنیا جانے لگے تونیٹو افواج نے ان کے ہوائی جہاز کو پرواز کی اجازت نہ دی اور کم و بیش سترہ گھنٹے کے تھکادینے والے پہاڑی راستوں پر جیپ کے ذریعے امت مسلمہ کا یہ عالمی راہنما بوسنیاپہنچ سکا۔

دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے طریقے ملاحظہ ہوں کہ سابق امریکی صدربل کلنگٹن کے زمانے میں نیٹو میں سابق روسی ریاستوں کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔یعنی نیٹو جن ممالک سے تحفظ کی خاطر بنایاگیاتھااب انہیں ممالک کو اس میں شامل کیاجانے لگا اور توجیہ یہ پیش کی گئی ان ممالک کی معاشی مدد اور جمہوری اداروں کی پرورش کے لیے انہیں نیٹو میں شمولیت کی دعوت دی جارہی ہے کیونکہ روس کے ساتھ رہنے کے باعث انکی معیشیت تباہ اور جمہوری ادارے نہ ہونے برابر ہیں۔جب کہ حقیقت یہی تھی یورپ میں اٹھنے والی اسلامی نشاۃ ثانیہ کی لہر کو بزورقوت توڑ دیاجائے۔عالمی قوتیں بوسنیا میں مسلمانوں کا ردعمل بنظر غائر دیکھ چکی تھیں بلکہ بھکت چکی تھیں اب چیچنیا سمیت دیگر ممالک میں بھی مسلمانوں کے سر اٹھانے کا حل یہی تھاکہ بوسنیاکے معاملے میں تو مجبوراََاقوام متحدہ کو شامل کرنا پڑا اور وہ کھل کر گل نہ کھلا سکے اور باقی ممالک کو نیٹو کا رکن بناکر جب چاہیں گے ان ممالک کی مرضی سے افواج کو داخل کر کے تو مسلمانوں کو کچل کر رکھ دیں گے۔اس سے بڑھ اور کیاثبوت ہوگا اکیسویں صدی کے آغاز میں نیٹو نے روس تک سے دفاعی تعلقات پیداکر لیے اور روس کو دشمنوں کی فہرست سے خارج کردیا اور یہ طے کیا کہ اب نیٹو اورروس دنیا سے ’’دہشت گردی‘‘جس کی کہ تعریف کا تعین بھی ابھی تک اقوام متحدہ نہیں کرسکی کو ختم کرنے اور دنیا کوایٹمی اسلحہ سے پاک کرنے میں مل کر کام کریں گے،ان دونوں معاہدوں کا مطلب یہی ہے کہ مسلمانوں کے خلاف مل کر چکی چلائیں گے جیسے کہ افغانستان میں نیٹو کی افواج کر رہی ہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!