Chitral Times

20th August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

دس ارب روپے کی پیش کش محمد شریف شکیب

May 8, 2017 at 10:37 am

تحریک انصاف کے قائد عمران خان کو خبروں میں ’’ان‘‘ رہنے کا گر آتا ہے۔ وہ اکثر و بیشتر نئے نئے انکشافات کرکے ملک میں نئی بحث چھیڑتے رہتے ہیں۔ تاہم ان کا حالیہ انکشاف کافی دھماکہ خیز ہے۔ کہتے ہیں کہ دو ہفتے قبل دبئی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے بیٹے شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز کے ایک قریبی دوست ان کے پاس آئے تھے اور یہ آفر کی تھی کہ شریف برادران پانامہ کیس سے دست بردار ہونے پر عمران کو دس ارب روپے دینے کو تیا رہیں۔ پیغام لانے والے کا کہنا تھا کہ دس ارب میں ان کا کمیشن بھی شامل ہے۔

خان صاحب کادعویٰ ہے کہ انہوں نے اتنی بڑی پیش کش ٹھکرادی۔ کیونکہ کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ میں محفوظ تھا۔خان صاحب کے اس اچانک انکشاف سے مسلم لیگ کی صفوں میں بھونچال سا آگیا ہے۔ حمزہ شہباز سے لے کر مریم اورنگزیب ، سعد رفیق،دانیال عزیز ،خواجہ آصف اور طلال چوہدری تک سب نے عمران خان کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان کے دعوے کو من گھڑت، بے بنیاد اور شہرت پانے کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ خان صاحب نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ دس ارب روپے کی رقم خیبرپختونخوا کو دینے کی پیش کش ہوئی تھی۔ شوکت خانم اسپتال کے فنڈ یا خان صاحب کو ذاتی طور پر دینے کی بات ہوئی تھی۔بہرحال یہ ایک نیا پنڈورا بکس کھل گیا ہے۔ پتہ نہیں بات کہاں تک جائے گی۔ وفاق اور خیبر پختونخوا کے درمیان مسلسل محاذ آرائی سے اس صوبے کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وفاق نے قومی مالیاتی کمیشن میں صوبے کے حصے سمیت بجلی کی رائیلٹی اور پرانے بقایاجات کے علاوہ صوبے میں جاری مرکزی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے بھی ایک پیسہ نہیں دیا۔

اگر مفت میں ملنے والے دس ارب روپے ہی خزانے میں ڈالے جاتے تو دو چار مہینے کا گذارہ تو ہوجاتا۔ خزانہ خالی ہونے کی وجہ سے صوبائی حکومت دوسرے ملکوں سے قرضہ لینے اور بے چارے گدھوں کو فروخت کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ تازہ خبر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر آنے والی بائیس خواتین اراکین اسمبلی کو رواں مالی سال کے دس مہینے گذرنے کے باوجود ترقیاتی فنڈ کی مد میں ایک دھیلا تک نہیں ملا۔ غربت کی وجہ سے حکومت پر خواتین سے صنفی امتیاز کا الزام بھی لگنے لگاہے۔خواتین ہی نہیں، بیچارے مرد ایم پی ایز بھی لاچارگی کی تصویر بنے ہوئے ہیں کہ ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے۔ ابھی بجٹ میں بھی ایک مہینہ رہ گیا۔ گذشتہ بجٹ میں رکھے گئے 80فیصد اہداف ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ اس صورت حال سے وفاق کوہی فائدہ ہوگا۔ ان کے نمائندے جلسوں میں لوگوں کو بتارہے ہیں کہ تبدیلی لانے کے دعوے کرنے والوں نے آپ کو کیا دیا؟لوگوں کو تو نہیں پتہ۔

کہ وفاق والے آپ کے حصے کی رقم نہیں دیتے تو ترقی کیسے ہوگی، تبدیلی کیسے آئے گی۔پی ٹی آئی کی ایم این اے عائشہ گلالئی نے الزام لگایا ہے کہ پنجاب حکومت خیبر پختونخوا کے حصے کے فنڈ سے اورنج لائن ٹرین اور میٹرو بس سروس چلا رہی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہم وفاق کو بھی مورد الزام نہیں ٹھہراسکتے۔بات بات پر وفاق کے ساتھ پنگا لیں گے تو وہ آپ کی مالی مدد کیوں کرے گا۔ وہ تو آپ کے قرضے بھی واپس نہیں کرے گا۔ اور میاں برادران ویسے بھی کاروباری لوگ ہیں۔ وہ نقصان کا کاروبار کسی صورت نہیں کرتے۔دوسری طرف پی ٹی آئی کے سیاسی مخالفین نے صوبائی حکومت پر یہ الزام بھی لگایا ہے کہ وفاق نے صوبے کا ایک پیسہ نہیں روکا۔ اگر ان الزامات میں صداقت ہے تو صوبائی حکومت صوبے کے جائز حقوق کے لئے احتجاجی جلسے، مظاہرے اور دھرنے کیوں نہیں دیتی۔ آج صوبائی حکومت مالیاتی ایوارڈ، بجلی کی رائیلٹی ، ترقیاتی فنڈز نہ دینے اور بجلی کی ترسیل میں صوبے کے ساتھ امتیازی سلوک کے خلاف اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کرے۔ تمام لوگ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر اس میں شرکت کریں گے۔الیکشن کے دوران عوام کے پاس جاکر یہ شکوے شکایت کرنا بے معنی ہوگا کہ وفاق نے پانچ سالوں تک صوبے کو اس کے حقوق سے محروم رکھا جس کی وجہ سے کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں ہوسکا اور صوبہ مزید غربت کا شکار ہوگیا۔عام لوگ پولیس، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات کی باتیں نہیں سمجھتے۔ انہیں تبدیلی جب تک نظر نہ آئے۔ تو خیالی باتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ بات پی ٹی آئی کو اپنے سیاسی بقاء کے لئے ذہن نشین کرنا چاہئے۔

Translate »
error: Content is protected !!