Chitral Times

21st August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خیبر پختونخوا بزنس کمیونٹی کے ایک وفد کا آئی جی پی خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود سے ملاقات

May 8, 2017 at 9:49 am

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز ) خیبر پختونخوا بزنس کمیونٹی کے ایک وفد نے سنیٹر حاجی غلام علی کی قیادت میں پشاور میں آئی جی پی خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود سے اُن کے آفس میں ملاقات کی ۔ وفد میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس کے نائب صدر بشیر احمد پراچہ ، چترال چیمبر آف کامرس کے صدر سرتاج احمد خان اور دلاور خان شامل تھے ۔

وفد نے آئی جی کو اُس کی تعیناتی پر مبارکباد دی ۔ اور خیبر پختونخوا بزنس کمیونٹی کو مشکلات کے حل کیلئے بزنس کمیونٹی کے ساتھ میٹنگ کی دعوت دی ۔ وفد نے آئی جی سے گذشتہ روز چترال میں پیش آنے والے واقعے پر تفصیلی بات چیت کی ۔ اور خطیب شاہی مسجد چترال اور چترال کے شہریوں کی طرف سے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کے اقدام کی تعریف کی ۔ اور کہا ۔ کہ چترال کے علماء خصوصا خطیب شاہی مسجد چترال، علاقے کے عمائدین ،سرکاری آفیسران ، سیاسی قائدین اور چترال کے تمام اداروں نے امن قائم کرنے کیلئے جو اہم رول ادا کیا ہے ۔ وہ دوسرے اضلاع کیلئے قابل تقلید ہے ۔ وفد نے آئی جی پی سے یہ بھی مطالبہ کیا ۔ کہ چترال کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے منظور شدہ چھ پولیس سٹیشنوں پر کام شروع کیا جائے ۔

اور پولیس فورس کی تعداد بڑھائی جائے ۔ تاکہ سیکیورٹی کے لئے مزید بہتر اقدامات کئے جا سکیں ۔ انہوں نے آئی جی سے ضلع سے باہر خدمات انجام دینے والے چترال پولیس کے جوانوں اور اآفیسران کو واپس چترال لانے کا بھی مطالبہ کیا ۔ وفد نے چترال واقعے میں بے گناہ افراد کی گرفتاری پر لوگوں کی تشویش سے آئی جی پی کو آگاہ کیا ۔ اور کہا ۔ کہ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے ، کم ہے ۔ اور مسلمانوں کی طرف سے جذبات کا اظہار فطری امر ہے ۔ تاہم یہ بات خوش آیند ہے ۔ کہ سب نے ذمہ داری کا رویہ اپنا یا ۔ اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ۔ اس لئے اس واقعے میں بے گناہ لوگوں کو ملوث نہ کیا جائے ۔ سرتاج احمد خان نے آئی جی پی کو چترال آنے کی دعوت دی ۔

اس موقع پر آئی جی پی نے وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال کے تمام تھانوں میں جو بھی کمی موجود ہیں ۔ چھ مہینوں کے اندر وہ مسائل حل کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم پولیس کو عوام کے قریب تر لانے اور عوام کے سامنے جوابدہ بنانے کیلئے مختلف پراجیکٹس پر کام کر رہے ہیں ۔ جن کی نگرانی ڈی آئی جی کریں گے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ناخوشگوار حالات رونما ہونے پر مقامی اکابرین کی ذمہ داری بنتی ہے ۔ کہ وہ پولیس کے ساتھ تعان کریں ۔ آئی جی نے کہا ۔ کہ چترال واقعے میں ہم بے جا گرفتاری نہیں کر رہے ۔ اور کئی افراد کو اُن کی بے گناہی پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ہم عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے کُرسی پر بیٹھے ہیں ۔ اور ہمیں عوامی مسائل حل کرکے خوشی ہو گی ۔ آئی جی نے سرتاج احمد خان کی طرف سے چترال آنے کی دعوت قبول کر لی ۔

Translate »
error: Content is protected !!