Chitral Times

23rd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ختمِ نبوّت کے قیدیوں کا حساس مسئلہ محمد نقیب اللہ رازیؔ

May 8, 2017 at 6:09 pm

چترال کی انتظامیہ بزعمِ خودخوش ہے کہ ہم نے بزور بازو یہاں امن قائم کیا ہوا ہے ۔لیکن اس کو شاید ختمِ نبوّت کے مسئلے کی اہمیت کا علم نہیں۔ورنہ وہ یہاں کے علماء،سیاسی قائدیں اور اکابریں کے ہاتھ چوم کر حالیہ درپیش حالات کو سنجیدگی سے جلد حل کرلیتی،اور قیدیوں کی رہائی کا فوری بندوبست کرکے اور ملعون مدّعی کو کیفرکردار تک پہنچاکر ختمِ نبوّت کی شان بالا کردیتی۔لیکن اس کو یہ بات نہیں بھولنی چاہئے کہ اس حوالے سے صورت حال ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا ہے اور نہ ایساممکن ہے۔قیدیوں کی رہائی کا مسئلہ جتنا طول پکڑتا جائے گا،حالات پھرپلٹ آنا اتنا ہی ممکن ہوگا۔تب علمائے کرام اور سیاسی اکابریں بھی ان سے یہی کہیں گے کہ: تمہی نے درد دیا ہے تمہی دوا دینا
کیونکہ یہ بات ہر مسلمان کو معلوم ہے کہ اسلامی عقائد میں توحید سے زیادہ نازک تر مسئلہ نبوّت کا ہے۔اس کو نہ چھیڑاجاسکتا ہے اور نہ چھیڑنے والے کو چھوڑا جاسکتا ہے۔اس کا سب سے بڑا ثبوت ہمارے ماضی کی تاریخ ہے۔اگر اس سے سبق نہیں لیا گیا ،توپھر مستقبل کی نسل آج کا حوالہ ضرور دے گی ۔جن کا سوبارسے زیادہ امتحان ہوچکا ہے ۔ہمارے اکابریں نے نہ کبھی گستاخِ نبوت کو برداشت کیا ہے اور نہ مدعئ نبوّت کو ریلف دینے کو گوارا کیا ہے ۔شیخ عبدالقادر قوصیؒ متوفی 670ء اپنے بیٹے کے ساتھ لوکی کا سالن کھارہے تھے کہ لوکی آنحضرت ﷺ کو پسند تھی۔بیٹے نے کہا مجھے تو پسند نہیں یہ گندی چیز ہے۔شیخ نے بلاتأمل تلوار اٹھائی اور بیٹے کا سرقلم کردیا ،کہ یہ بھی شانِ نبوّت میں گستاخی ہے۔اس نازک مسئلے میں جب بیٹے کی گستاخی برداشت نہیں کی جاتی،تو غیر کا کیا کہنا؟۔نبئ خاتم المرسلین ﷺ نے خود ایمان کی شان یہی بتلائی ہے کہ جب تک آنحضرت ﷺ تم کو تمہارے باپ،بیٹے اور سارے محبوب ترین لوگوں سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو،کامل مؤمن ہوہی نہیں سکتے۔یہ بھی کیسا ایمان ہے ایک طرف ختمِ بنوّت کے ڈاکوکو آسائش وآرام فراہم کیاجاتا ہے ،اور دوسری طرف احتجاج کرنے والے محافظینِ ختم بنوّت پرکوڑے اور ڈنڈے برساکر جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ٹھیک ہے کہ ان طریقۂ احتجاج سے کوئی اتفاق نہیں کرسکتا،لیکن قابلِ غوربات صرف اتنی سی ہے کہ انھوں نے گندم کی سپلائی،ذخیرہ اندوزی،کرپشن اور رشوت ستانی وغیرہ سلسلے میں تو احتجاج نہیں کیا ہے ،اور نہ ان کا کسی سے کوئی ذاتی دُشمنی یاانتقام مقصود تھا۔وہ تو صرف اس بات پر احتجاج کررہے تھے کہ کوئی ملعون منصب بنوّت کو خاتم النبین ﷺ سے چھیننے کی کوکوشش کررہا تھا۔اگر کوئی دوسرا آدمی ہمارے ڈی سی ،اے سی اور ایس پی صاحب کی کرسی پربیٹھ کر خود کو بھی صاحب کرسی جیسے آفیسر ظاہر کرے،تو میں سمھتا ہوں کہ آپ کے آفس کا کلاس فور بھی اس گھیٹ کر باہر نکالنے میں پیش پیش ہوگا،اور اس کو اپنے منصب کی ذمہ داری خیال کرتے ہوئے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے کے لئے بھی تیار ہوگا۔
علامہ محمد اقبالؒ کو لاہورکے ایک چیف جسٹس نے دعوت کی ،اور اس میں دوسرے عمائدیں بھی شریک تھے۔لیکن قادیانی جھوٹاخلیفہ نورالدّین بھی وہاں نظرآیا۔تو اقبالؒ نے برآفروختہ ہوکر کہا کہ : آغا!آپ نے کیا غضب کیا کہ اس باغئ ختم نبوت کو بلانا تھا تو مجھے کیوں مدعوکیا؟ میں اس محفل میں ایک لمحہ بھی نہیں بیٹھ سکتا۔وہ جانے کے لئے تیار تھے کہ وہ ملعون
خود چلاگیا۔سرمحمد شفیع ایک گستاخِ نبوّت کے مجاہد غازی کے وکیل تھے ،انگریز جج جب اس کے خلاف فیصلہ سنارہا تھا تو سر محمد شفیع کی آنکھوں سے آنسوجاری ہوگئے،جج کے استفسار پر انھوں نے کہا کہ :میں اس لئے روتا ہوں کہ اگر اِس کی جگہ محمد شفیع بھی ہوتا تو یہ ناکارہ بھی وہی کام کرجاتا جواس نوجوان نے کیا ہے۔
یہ باتیں سب ریکارڈ پہ موجود ہیں ،یہاں تک کہ غازی علم دین شہیدکے کیس کا دفاع کرنے کے لئے قائداعظم محمد علی جناح بمبئ سے لاہورہائی کورٹ آیااور بھر پوردفاع کیا۔تحریک ختم نبوت کے مخالف وزیراعلیٰ پنجاب ممتاز دولتانہ کو ذوالفقارعلی بھٹو نے اسی بنا پر چوہاکہہ کر پکارا،کہ وہ محافظینِ ختمِ نبوّت کے خلاف کام کررہا تھا۔
مزیدیہ کہ ختمِ نبوّت کے اس قسم کے قیدیوں کے ساتھ جوجوپولیس والے یاحکومتی اہل کاروں نے سخت رویہ اپنایا ہے ،ان سب کی بدترین موت ، عبرت ناک انجام اور دُنیوی زندگی میں ذلّت اٹھانا سب کے سامنے واضح رہا ہے۔یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شانِ نبوّت کو دائم وبالا رکھنے کا ذمہ خود لیا ہے اور اس کی سزاکو صرف آخرت کے لیے ہی نہیں چھوڑا ،بلکہ دنیامیں بھی ایسے لوگوں کو رسوا کردیا ہے۔
یہ باتیں محض یاددہانی اوردنیاکے عذاب ا ورذلت سے سب کو بچانے کی غرض سے کہنی پڑیں ۔ورنہ دیوانہ بکارخود ہشیار کے بمصداق حکومت کو بھی ان کا خوب علم ہے۔لیکن وہ جس مجبوری کا بہانہ بناکر ملعون کی سزاکو ٹالنا چاہتے ہیں، اس سے بڑھ کرمجبوری یوم حساب کی بھی ابھی آنے والی ہے۔ایسے لوگ آقائے دوجہان خاتم المرسلین ﷺ کوکیاجواب دے سکیں گے؟۔اگرکل کوان سے پوچھاجائے کہ میری شانِ نبوّت پر ڈاکے ڈالے جارہے تھے ،میری نبوت چوری کی جارہی تھی ،تم چوروں کو پکڑنے اور سزادینے کے ذمہ دار تھے ،تونبوت کے ڈیکیٹروں اور لٹیروں سے تم نے کیا سلوک کیا؟اگر تم نے خود توکچھ نہیں کیا ،لیکن احتجاج کرنے والوں کے ساتھ تم کیوں بربریت کا سلوک روا رکھا؟۔اس کا جواب ان کے پاس کیا ہوگا؟۔ذرا سوچو تو،ہماری تو رونگٹیں کھڑی ہوجاتی ہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!