Chitral Times

21st August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

حامد کرزئی کا کھرا مگر آدھا سچ محمد شریف شکیب

May 8, 2017 at 6:11 pm

سابق افغان صدر حامد کرزئی انکشاف کیا ہے کہ داعش اور امریکہ ایک ہی بلا کے دو نام ہیں۔ داعش امریکہ ہی کی پیداوارہے اور گذشتہ ماہ افغانستان کے علاقے ننگر ہار پر دنیا کا سب سے بڑا بم (مادر آف آل بمز)گرانے میں بھی امریکہ اور داعش دونوں کا ہاتھ ہے۔ سابق افغان صدر نے امریکی ٹیلی وژن کو انٹر ویو دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پاک افغان سرحد پر بغیر شناخت والے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سامان سپلائی کیا جارہا ہے۔تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ان سپلائی بیگز میں کیا چیزیں اور کس کو کس کی طرف سے فراہم کی جارہی ہیں۔ افغان صدر کو اپنے ملک میں امریکہ کی مشکوک سرگرمیوں کی خبر راتوں رات نہیں ہوئی۔ وہ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد امریکہ ہی کی اشیرباد سے افغانستان کے صدر بنے تھے اور دوسری مدت کے اختتام تک امریکہ کی گود میں بیٹھ کر حکمرانی کرتے رہے۔ اب جبکہ انہیں اقتدار میں دوبارہ آنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ تو انہوں نے حقائق سے پردہ اٹھانے کا فیصلہ کرلیا۔ سابق افغان صدر نے داعش کو امریکی پیداوار قرار دے کر کوئی انکشاف نہیں کیا۔ اس حوالے سے عالمی حالات و واقعات سے تھوڑی بہت دلچسپی رکھنے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ نائن الیون کا ڈرامہ بھی افغانستان اور القاعدہ کے خلاف کریک ڈاون کا جواز پیدا کرنے کے لئے رچایا گیا تھا۔ یہ بھی سب کو معلوم ہے کہ افغانستان میں سوویت فوج کے خلاف جہاد بھی امریکی مدد اور تعاون سے شروع کیا گیا تھا۔ ایک سطحی سوچ والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ سوویت فوج کو درانداز قرار دے کر اس کے خلاف گوریلا جنگ اگر جہادتھی۔ تو امریکی دراندازوں کے خلاف گوریلا جنگ دہشت گردی کیوں کہلاتی ہے۔ افغان عوام گذشتہ چالیس سالوں سے حالت جنگ میں ہیں پہلے وہ سوویت یونین کی فوجی مداخلت کے خلاف آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے تو آج امریکی مداخلت کے خلاف اپنی خودمختاری کی جنگ لڑ رہے ہیں۔حامد کرزئی کو اس حقیقت کا ادراک کل بھی تھا مگر وہ اقتدار کی خاطر چپ رہا۔ یہی ادارک اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کو بھی ہے۔ لیکن اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے وہ چپ ہیں۔ اقتدار کی کرسی سے نیچے اتر کر وہ بھی کرزئی کی طرح انکشافات کریں گے۔ تاہم کرزئی نے نمک حلالی کا حق پوری طرح ادا نہیں کیا۔ وہ امریکی عنایات و نوازشات کو تو بہت جلد بھول گیا مگر بھارت کے گن آج بھی گا رہے ہیں۔پاک افغان سرحد سے متصل علاقوں میں بھارت کو اپنے درجنوں قونصل خانے کھولنے کی اجازت حامد کرزئی نے ہی دی تھی۔ سابق افغان صدر کو بخوبی معلوم ہے کہ افغانستان سے شدت پسندوں کو کیل کانٹے سے لیس کرکے تخریبی کاروائیوں کے لئے پاکستان بھجوانے میں کون کون ملوث ہیں اور پاکستان کے مطلوب دہشت گرد افغانستان میں کہاں کہاں چھپے ہوئے ہیں۔ افغان صدر نے آدھے حقائق تو تسلیم کرلئے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ اپنی عمر کو ڈھلتا دیکھ کر وہ افغانستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے حوالے سے تیار کی گئی سازش کا بھی پردہ چاک کردیں۔ اشرف غنی کی طرح حامد کرزئی بھی جانتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ان کا پڑوسی ہونے کے علاوہ کلمہ طیبہ کا رشتہ بھی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ افغانستان کی بقاء کا انحصار پاکستان سے برادرانہ اور دوستانہ تعلق قائم کرنے پر منحصر ہے۔ یہود و ہنود کبھی بھی مسلمانوں کے وفادار، غم گسار اور مددگار نہیں بن سکتے۔ وہ صرف اپنے مطلب اور مفاد کی خاطر افغانستان کو استعمال کررہے ہیں جب کام نکل آئے تو وہ استعمال شدہ ٹشو کی طرح اٹھاکر پھینک دیں گے۔ تب بھی پاکستان ہی ان کی مدد کو پہنچے گا۔جس طرح وہ چالیس سالوں سے پینتیس لاکھ افغان مہاجرین کی کفالت کر رہا ہے۔ افغان قوم کو طاقت کے کھیل میں آلہ کار کے طور پر استعمال کئے جانے کا وہاں کی سیاسی قیادت کو جتنی جلدی احساس ہوجائے۔ اتنا ہی بہتر ہے۔ حامد کرزئی نے جن حقائق کا انکشاف امریکی ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں کیا ہے۔ وہی باتیں اگر وہ اشرف غنی کو بھی بتادیں اور انہیں ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ دیں تو یہ افغان اور پاکستانی قوم کے ساتھ خود افغان لیڈروں کے بہترین مفاد میں ہوگا۔ انسان غلطی کا پتلا ہے۔ انسان کی بڑائی اسی میں ہے کہ غلطی اور گناہ کے بعد وہ اس کا احساس کرے۔ برملا اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور خلوص دل سے خالق اور مخلوق سے اس غلطی کی معافی مانگے ۔

Translate »
error: Content is protected !!