Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

انتخابی گہماگہمی اور عوام کی بیزاری محمد شریف شکیب

May 8, 2017 at 6:03 pm

ملک میں عام انتخابات کی تیاریاں شروع کردی گئیں۔ مردم شماری کے نتائج آنے کے بعد نئی حلقہ بندیاں ہوں گی۔ نئی انتخابی فہرستیں تیار کی جائیں گی۔ لامحالہ آبادی میں اضافے کے ساتھ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ ہوگا۔ سیاسی جماعتیں بھی انتخابی مہم کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ منشور اپ ڈیٹ کرنے اور عوام کو نئے لولی پاپ دینے پر غور و خوص جاری ہے۔ تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے شکوہ کیا ہے کہ نئے لوگ سیاست میں آنے کو تیار نہیں ہوتے۔ پرانے لوگوں کو ساتھ ملاتے ہیں تو تنقید کی جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں کہ شور شرابے کی سیاست ہورہی ہے۔ الزامات اور جوابی الزامات کی سیاست سے سیاسی نظام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ موجودہ جمہوری نظام چلتا رہے تو بہتر ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے بعد مسلم لیگ ن کی حکومت بھی اپنی آئینی مدت پوری کرنے جارہی ہے۔ اگر پانامہ یا ڈان لیکس سکینڈل میں وزیراعظم کو عہدے سے الگ ہونا بھی پڑا۔ تو ملک میں سیاسی عدم استحکام کا کوئی خطرہ نہیں۔ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی دو وزرائے اعظم تبدیل ہوئے تھے۔ کوئی طوفان نہیں آیا۔ سیاسی استحکام کا ایک فائدہ یہ ہے کہ کسی پارٹی کو سیاسی مظلوم یا شہید بن کر عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کا موقع نہیں ملے گا۔ عوام پی پی پی، مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی حکومتوں کی کارکردگی دیکھ چکے ہیں۔ عوام کو معلوم ہوچکا ہے کہ کون کتنا پانی میں ہے۔ تاہم سیاسی جماعتیں کافی پراعتماد نظر آتی ہے۔ مسلم لیگیوں کا دعویٰ ہے کہ انتخابات میں وہ خیبر پختونخوا میں بھی کلین سوئپ کریں گے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں کامیاب تجربے کے بعد اب وفاق میں بھی ان کی حکومت ہوگی۔ اور تبدیلی کا دائرہ پورے ملک میں پھیلایاجائے گا۔ اے این پی کا دعویٰ ہے کہ اگلی باری ان کی ہے۔ کیونکہ گذشتہ انتخابات میں انہیں سیکورٹی خدشات کی وجہ سے انتخابی مہم چلانے کی مہلت نہ مل سکی تھی جس کے باعث انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پیپلز پارٹی والوں کو بھی ایسی ہی شکایت ہے ۔سیاسی جماعتوں نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے لئے اپنے متوقع امیدواروں کے ناموں پر غور بھی شروع کردیا ہے۔ پی ٹی آئی نے ’’ مسائل پیدا کرنے والے‘‘ ارکان کو انتخابی عمل سے دور رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔ دوسری جانب اراکین صوبائی اسمبلی کے ترقیاتی فنڈز بھی روک دیئے ہیں جس کی وجہ سے امکان یہی ہے کہ پی ٹی آئی سمیت اکثر سیاسی جماعتوں کو موزوں امیدوار ہی نہ ملیں۔مذہبی جماعتوں کا اپنا مخصوص ووٹ بینک ہے اس میں انیس بیس کا فرق ہوسکتا ہے۔ زیادہ تبدیلی کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ متحدہ مجلس عمل کی دوبارہ تشکیل کے امکانات بھی معدوم نظر آتے ہیں۔ موجودہ سیاسی منظر نامے کا سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندازفکراور طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ کسی جماعت کے پاس عوام کی زندگی میں تبدیلی لانے کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ سب ہی ایک دوسرے پر لعن طعن کو ہی سیاست سمجھتے ہیں۔ عمران خان اور ان کی پارٹی کے لوگ موٹو گینگ کے چکر سے باہر نہیں نکل رہے جبکہ نواز شریف کی پارٹی کو بھی عمران فوبیا ہوگیا ہے۔ پیپلز پارٹی والے دونوں جماعتوں کو برابھلا کہہ کر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔ اے این پی اور جے یو آئی کا بھی یہی حال ہے۔ البتہ سراج الحق نے اپنا طرز عمل تھوڑا تبدیل کردیا ہے۔ وہ سیاسی جلسوں میں عوامی انتخابی منشور کی بات کرتے ہیں۔کراچی میں مائنس الطاف کا فارمولہ بھی زیادہ کارگر ثابت نہ ہوسکا۔ ایم کیوایم کا نام بدلنے، پاک سرزمین پارٹی کے قیام اور الطاف گروپ کے کچھ لوگوں کی اس میں شمولیت کے باوجود سندھ کی سطح پر کوئی بڑی تبدیلی کا امکان کم ہی ہے۔ماضی کی نسبت سیاسی استحکام کے باوجود بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کم ہوسکی۔ نہ ہی مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پانے کے لئے کوئی ٹھوس اقدامات کئے گئے۔ اس لئے عوام کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے لئے پولنگ اسٹیشن جانے کا کوئی جواز نظر نہیں آرہا۔ البتہ نوجوانوں کی انتخابی عمل میں شرکت سے تحریک انصاف کا ووٹ بینک پہلے سے بڑھنے کے امکانات واضح ہیں۔

Back to Conversion Tool

Translate »
error: Content is protected !!