Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال ، ایک شخص کی مبینہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ ، مشتعل ہجوم کا تھانے پر پتھراو ، پولیس کی جوابی آنسو گیس کا استعمال

May 7, 2017 at 11:17 pm

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال کے شاہی مسجد میں ایک شخص کی طرف سے مبینہ طور پر جھوٹی نبوت کا دعوی کرنے پر خطیب مسجد اور دوسروں نے انھیں مقامی پولیس کے حوالہ کیا۔جس پر مشتعل ہجوم نے پولیس اسٹیشن چترال پر دھاوا بول دیا ۔ جمعہ کی شام تک چترال پولیس اور مظاہرین کے مابین سنگ باری اور انسو گیس کے شیلنگ سے تین افراد زخمی ہو گئے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق نماز جمعہ کے دوران شاہی مسجد میں چترال کے بالائی گاؤں ریچ سے تعلق رکھنے والے رشید خان ولد محمد نور نے مبینہ طور پر نبوت کا دعوی کیا ۔ جس پر لوگوں نے اُسے مارنے کی کوشش کی ۔ تاہم بعض افراد اور خطیب مسجد نے انھیں فاطر العقل یعنی پاگل قرار دیکر انھیں پولیس کے حوالہ کیا ۔ نماز جمعہ کے بعد سینکڑوں افراد چترال تھانے کے سامنے جمع ہوئے ۔ اور جھوٹی نبوت کا دعوی کرنے والے کو فوری طور پر اُن کے حوالے کرنے اور قتل کرنے کا مطالبہ کیا ۔

مظاہرین نے بعد آزان چترال تھانے پر سنگ باری کی اور رپورٹنگ روم کے شیشے توڑ دیے ۔ جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کی شیلنگ کی ۔ اس تصادم میں تین افراد احسان ساکن مغلاندہ ، الطاف گل ولد معراج گل ریحانکوٹ اور محمد حسین زخمی ہوئے ۔ چترال میں کشیدہ حالات کی وجہ سے ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں ایمر جنسی نافذ کر دی گئی ہے ۔ جبکہ چترال پولیس کی بھاری نفری جو کاغلشٹ فیسٹول کی سکیورٹی کی ڈیوٹی پر تھے واپس بلالئے گئے ہیں ۔ حالت کو کنٹرول کرنے کیلئے کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ، ڈپٹی کمشنر چترال اور ضلع ناظم چترال نے لوگوں کو پر امن رہنے کی اپیل کی اور یقین دلایا ۔ کہ مذکورہ شخص کو قانون کے مطابق سزا دی جائے گی ۔انھوں نے مظاہرین سے واقعہ سے متعلق تحقیقات کیلئے وقت مانگا مگر مشتعل مظاہرین نے کسی کی بات نہیں مانی ۔ اور بدستور نبوت کے جھو ٹے دعویدار کو سر عام قتل کرنے کا مطالبہ کررہے ۔

مظاہرین کا یہ کہنا ہے ۔ کہ اس شخص کو اگر چھوڑ دیا گیا ۔ تو اس قسم کے کئی اور نبوت کے جھوٹے دعویدار نکل آئیں گے ۔ اس لئے اس کو فوری طور پر سزا دی جائے ۔ چترال پولیس اور مظاہرین کے درمیان جمعہ کے بعد سیکرٹریٹ روڈ میدان کار زار بنا رہا ۔ اور مظاہرین و پولیس ایک دوسرے پر پتھروں آنسو گیس کے شیلز برساتے رہے ۔ درین اثنا ڈپٹی کمشنر چترال کے آفس میں حالات سے متعلق ایک ہنگامی میٹنگ کی گئی جس میں سیکورٹی کے حوالے سے فیصلے کئے گئے ہیں ۔

جھوٹی نبوت کے دعویدار کے متعلق معلوم ہوا ہے ۔ کہ قطر میں ذہنی توازن خراب ہونے کی بنا پر اُسے واپس گھر بھیج دیا گیا تھا ۔ اور حالیہ دنوں میں اُس کابھائی اُسے علاج کیلئے پشاور لے جارہاتھا ۔ کہ یہ واقعہ رونما ہوا ۔ دریں اثنا چترال بازار اور کاروباری مراکز جمعہ کے بعد مکمل طور پر بند رہے ۔ قریبی دفاتر میں بھی آنسو گیس کے شیل گرنے سے کام کرنے سے قاصر رہے ۔ ٹریفک بھی جام رہی ۔ اخری اطلاع تک کمانڈنٹ چترال سکاوٹس کرنل نظام الدین شاہ مشتعل ہجوم سے مذاکرت کی کوشش کررہے ہیں۔

Translate »
error: Content is protected !!