Chitral Times

22nd August 2017

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ایئرپورٹ تماشا: میرے دیس کا مجمع آخر معاشرہ کب بنے گا؟

May 7, 2017 at 10:33 pm

اسلام آباد میں ایک واقعہ ہوا یا یوں کہیں ایک تماشا ہوا، جس میں خواتین میں آپس میں لڑائی ہوئی یا پھر ہم سب کی رسوائی ہوئی، اس واقعے کی وڈیو بھی منظر عام پر آئی۔ لڑائی کی وجہ بھی کیا، محض ٹوائلٹ ٹشو۔ اہلکار اور مسافر خواتین میں تلخ کلامی نہ جانے کب دست و گریبان تک جا پہنچی۔ بہرحال معاملہ اب تو کافی ٹھنڈہ ہو چکا ہے، پہلے تو ڈائریکٹر ایف آئی اے نے خاتون اہلکار کو معطل کیا پھر دونوں فریقین کی جانب سے مقدمات درج کروائے، پھر چار دن مسافر خواتین فریق کی جانب سے بھی تحریری معافی نامہ آگیا۔ لیکن مستقبل کی ضمانت؟
میری بیٹی عرب امارات میں ہی پلی بڑھی ہے، وہ ایک ایسے ماحول میں رہتی ہے جہاں ٹکر لگ جائے تو اکثریت مڑ کر سوری کہتی ہے۔ دکان میں داخل ہو تو دکاندار بڑھ کر ویلکم کرتا ہے، نمک، مرچ یا چینی کم زیادہ ہو جائے تو کھانا واپس چلا جاتا ہے اور دوبارہ بنانا ریسٹورنٹ کی ذمہ داری ہے۔ چیز دکاں سے اچھی نہ ملے تو دکاںدار قصور وار ہے۔

گاڑی کی ٹکر لگ جائے تو مارنے والا اور ٹکر کھانے والا اپنی اپنی جگہ کھڑے پولیس کا انتظار کرتے ہیں۔ جو سڑک پر آپ سے کوئی غلطی ہو جائے تو ٹریفک پولیس اہکار آ کر پہلے مصاحفہ کرے گا پھر اخلاق و ادب کے دائرے میں رہ کر آپ کا چالان کرے گی۔ یوں ایئر پورٹ پر بدتمیزی کرنے والا گرفتار ہو گا قانونی کارروائی بھی کی جائے مگر اپنے کپڑے نہیں پھٹوائے گا اور دنیا کے سامنے رسوا نہیں ہوگا۔

سوچتی ہوں کل کی گلف نیوز میں یہ خبر بھی ہو گی اور وڈیو بھی! ساری دنیا کے سامنے ایک بار پھر سر جھکے گا، چہرہ چھپانا پڑے گا۔ آخر ہم مجمع بطور ایک معاشرہ سوال کیوں نہیں کرتے معاشرے میں تبدیلی کے لیے مزاحمت کیوں نہیں کرتے؟

گزشتہ چند دنوں میں معاشرتی سطح پر جس بربریت اور درندگی کے واقعات دیکھنے کو ملے، انہیں پڑھ، دیکھ اور سن کر خود سے سوال کرتی ہوں کہ جس ملک میں ایک ہجوم مارنے والے کا ساتھ دے اور مرنے والے کا تماشا دیکھے، جو ظالم کو سلام کرے اور مظلوم کو گالی دی، جو ظلم روکنے کے بجائے ظلم سے بچنے کا طریقہ سیکھے، کیا وہ انسانی معیار پر پورا اترتی ہے!

اس واقعے کے بعد نہ جانے کتنے بھائیوں نے وڈیو کے مزے لیے ہوں گے اور کتنے ہی باپ گھر جا کر سکون سے سوئے ہوں گے۔ اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں یہ ہے جان مال اور عزت کا تحفظ!

جب معاشرے میں بربریت پھیلانے والے ہجوم ہوں تو ریاست کو تشدد اور جبر سے نہیں بلکہ اپنے رویوں میں مہذب روش اپنانی ہوتی ہے۔ تحمل اور برداشت کا پیغام دینا ہوتا ہے۔ ریاست کیوں اپنے اہلکاروں کو عام لوگوں کے ساتھ تمیز سے پیش آنے کی تربیت کیوں نہیں کرتی؟

بیرون ملک پاکستانی اکثر و بیشتر ان رویوں کا شکار ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ مہذب دنیا میں رہتے ہیں اور جنگل کے قانون بھول جاتے ہیں۔ انہیں انسانوں جیسے حقوق و فرائض ازبر ہو جاتے ہیں۔ اس میں ان کا کوئی دوش نہیں۔ دراصل تمام مہذب ملک اپنے ہر رہایش پزیر کو قدم قدم پر ان کے حقوق و فرائض یاد کرواتے ہیں۔

اسی لیے جب پاکستانی نئے نئے دیس جاتے ہیں تو گھبرائے ہوئی مخلوق کی مانند محسوس ہوتے ہیں۔ پردیس کی غیر مٹی انہیں عزت دے کر آہستہ آہستہ ان کی آنکھیں کھولتی ہے کچھ عرصے میں ان کی عزت نفس مردہ سے زندہ ہونے لگتی ہے اور آہستہ آہستہ اچھے انسانوں کی طرح ان کے کندھے اور سر اٹھ جاتے ہیں۔

یہ تکبر انسان پیدا نہیں کرتا، معاشرے اور ماحول پیدا کرتا ہے جو انسانوں کو انسانوں جیسی عزت دیتا ہے۔ افراد کو بحثیت انسان احترام دینا سکھایا جاتا ہے،ہر فرد ہر ادارے کو اس کی خدمات کا ذمہ دار بنایا جاتا ہے۔

قوم کی، اداروں کی، نظام کی، اس قدر پستی ہزاروں سال مانگتی ہے وضو کرنے کو، یہ شاید چند دہاییوں کی بات نہیں۔ اسی لیے تو پاکستانی حکمراں طبقہ انگلینڈ، فرانس اور دبئی میں محل بناتا ہے کیونکہ ان کے اگائے گئے اس جنگل میں وہ خود بھی رہنا نہیں چاہتا۔

آخری بات یہ کہ ہم ہمیشہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پہلے غلط قرار دیتے ہیں مگر ہمیں تھوڑی نظر اپنے عوام کی اشتعال انگیزی پر بھی کرنی چاہیے جیسا کہ ہم نے نادرا کے دفتر میں دیکھا۔ مگر بہرحال اس طرح کی اشتعال انگیزی سے نمٹنے کے لیے مار پیٹ، تھپڑ وغیرہ سے زیادہ بہتر اقدامات موجود ہیں جن کی تربیت ہمارے اہلکاروں کو ہونی چاہیے۔

ہمیں ایسے افراد کی اصلاح کرنے، ریاستی اداروں کے تربیتی معیار کو بہتر بنانے اور اپنی احساس ذمہ داری کو پیدا کرنے کے ساتھ ایک مہذب اور پرسکون معاشرہ تشکیل دینا ہوگا۔

Translate »
error: Content is protected !!